Showing posts with label حنا سمیع. Show all posts
Showing posts with label حنا سمیع. Show all posts

Monday, 24 April 2023

یہ دل کی اداسی پناہ مانگتی ہے

 یہ دل کی اداسی، پناہ مانگتی ہے

مِری بے سکونی، پناہ مانگتی ہے 

ہم اہلِ زمیں اتنے ظالم ہیں یا رب

کہ ہم سے زمیں بھی پناہ مانگتی ہے 

ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لے

یہ مخلوق تیری پناہ مانگتی ہے 

Saturday, 24 September 2022

ماں تو نے کچھ کہا ہوتا پوچھ ہی لیا ہوتا

 راضی نامہ کی بھینٹ چڑھتی ہوئی لڑکی


ماں

تُو نے کچھ کہا ہوتا

پوچھ ہی لیا ہوتا

بھیڑئیے ہیں وہ سارے

دیکھ ہی لیا ہوتا

Wednesday, 30 March 2022

پھروں میں تیرے لیے دربدر نصیب مرا

 پھروں میں تیرے لیے دربدر، نصیب مِرا

میرے خدا نے بنایا سفر،۔ نصیب مرا

میرا وجود تھا پانی میں چاند کی صورت

سمندروں نے بنایا بھنور، نصیب مرا

بس ایک لمحے کو پلکیں جھپک گئیں میری

وہ مجھ کو مل تو گیا تھا، مگر نصیب مرا

Tuesday, 29 March 2022

میرے خوابوں کو سمندر میں بہا دیتا ہے

 میرے خوابوں کو سمندر میں بہا دیتا ہے 

وہ محبت بھی فرائض میں نبھا دیتا ہے 

فیصلہ تم نے ہی کرنا ہے مگر جانے کیوں 

کوئی لمحہ تمہیں منصب سے ہٹا دیتا ہے 

میرے تو اپنے رویے ہی مِرے دشمن ہیں 

جو بھی ملتا ہے وہ جینے کی دعا دیتا ہے 

Monday, 28 March 2022

اسے بارشوں نے چرا لیا کہ وہ بادلوں کا مکین تھا

 اسے بارشوں نے چرا لیا کہ وہ بادلوں کا مکین تھا 

کبھی مڑ کے یہ بھی تو دیکھتا کہ مِرا وجود زمین تھا 

وہی ایک سچ تھا اور اس کے بعد کی ساری تہمتیں جھوٹ ہیں 

مِرے دل کو پورا یقین ہے وہ محبتوں کا امین تھا 

اسے شوق تھا کہ کسی جزیرے پہ اس کے نام کا پھول ہو 

مجھے پیار کرنا سکھا گیا مِرا دوست کتنا ذہین تھا 

Thursday, 1 April 2021

مکمل زندگی کرنے کی چاہت کچھ نہیں ہوتی

 مکمل زندگی کرنے کی چاہت کچھ نہیں ہوتی

جو لمحہ مل گیا جی لو، ریاضت کچھ نہیں ہوتی

جسے محرومیاں ملتی ہیں وہ ہی جان سکتا ہے

زبانی حوصلہ، جھوٹی مروت کچھ نہیں ہوتی

اُسے چاہا تو یہ سوچا محبت ہی سبھی کچھ ہے

اُسے پرکھا تو یہ جانا، محبت کچھ نہیں ہوتی