یہ دل کی اداسی، پناہ مانگتی ہے
مِری بے سکونی، پناہ مانگتی ہے
ہم اہلِ زمیں اتنے ظالم ہیں یا رب
کہ ہم سے زمیں بھی پناہ مانگتی ہے
ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لے
یہ مخلوق تیری پناہ مانگتی ہے
یہ دل کی اداسی، پناہ مانگتی ہے
مِری بے سکونی، پناہ مانگتی ہے
ہم اہلِ زمیں اتنے ظالم ہیں یا رب
کہ ہم سے زمیں بھی پناہ مانگتی ہے
ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لے
یہ مخلوق تیری پناہ مانگتی ہے
راضی نامہ کی بھینٹ چڑھتی ہوئی لڑکی
ماں
تُو نے کچھ کہا ہوتا
پوچھ ہی لیا ہوتا
بھیڑئیے ہیں وہ سارے
دیکھ ہی لیا ہوتا
پھروں میں تیرے لیے دربدر، نصیب مِرا
میرے خدا نے بنایا سفر،۔ نصیب مرا
میرا وجود تھا پانی میں چاند کی صورت
سمندروں نے بنایا بھنور، نصیب مرا
بس ایک لمحے کو پلکیں جھپک گئیں میری
وہ مجھ کو مل تو گیا تھا، مگر نصیب مرا
میرے خوابوں کو سمندر میں بہا دیتا ہے
وہ محبت بھی فرائض میں نبھا دیتا ہے
فیصلہ تم نے ہی کرنا ہے مگر جانے کیوں
کوئی لمحہ تمہیں منصب سے ہٹا دیتا ہے
میرے تو اپنے رویے ہی مِرے دشمن ہیں
جو بھی ملتا ہے وہ جینے کی دعا دیتا ہے
اسے بارشوں نے چرا لیا کہ وہ بادلوں کا مکین تھا
کبھی مڑ کے یہ بھی تو دیکھتا کہ مِرا وجود زمین تھا
وہی ایک سچ تھا اور اس کے بعد کی ساری تہمتیں جھوٹ ہیں
مِرے دل کو پورا یقین ہے وہ محبتوں کا امین تھا
اسے شوق تھا کہ کسی جزیرے پہ اس کے نام کا پھول ہو
مجھے پیار کرنا سکھا گیا مِرا دوست کتنا ذہین تھا
مکمل زندگی کرنے کی چاہت کچھ نہیں ہوتی
جو لمحہ مل گیا جی لو، ریاضت کچھ نہیں ہوتی
جسے محرومیاں ملتی ہیں وہ ہی جان سکتا ہے
زبانی حوصلہ، جھوٹی مروت کچھ نہیں ہوتی
اُسے چاہا تو یہ سوچا محبت ہی سبھی کچھ ہے
اُسے پرکھا تو یہ جانا، محبت کچھ نہیں ہوتی