Showing posts with label طالب باغپتی. Show all posts
Showing posts with label طالب باغپتی. Show all posts

Monday, 21 November 2022

بیمار غم کا کوئی مداوا نہ کیجیے

 بیمارِ غم کا کوئی مداوا نہ کیجیے

یعنی ستمگری بھی گوارا نہ کیجیے

رسوائی ہے تو یہ بھی گوارا نہ کیجیے

یعنی پسِ خیال بھی آیا نہ کیجیے

ظرف نگاہ چاہیے دیدار کے لیے

رخ کو پسِ نقاب چھپایا نہ کیجیے

Monday, 15 March 2021

جی بھی کچھ ایسا جلایا ہے کہ جی جانتا ہے

 جی بھی کچھ ایسا جلایا ہے کہ جی جانتا ہے

آپ نے اتنا رُلایا ہے کہ جی جانتا ہے

یاد بن کر تِری معصوم وفا نے ظالم

دل پہ وہ نقش بٹھایا ہے کہ جی جانتا ہے

شوقِ گستاخ نے اکثر تمہیں برہم کر کے

ہائے وہ لطف اٹھایا ہے کہ جی جانتا ہے

Sunday, 7 March 2021

تقدیر کے آگے کبھی تدبیر کسی کی

 تقدیر کے آگے کبھی تدبیر کسی کی

چلتی ہو تو سمجھے کوئی تقصیر کسی کی 

اب ایک تمنا ہو تو پوری کوئی کر دے 

یوں کون بدل سکتا ہے تقدیر کسی کی 

دل میں اتر آئی ہے نگاہوں سے سمٹ کر 

کس درجہ حیا کوش ہے تصویر کسی کی

Monday, 1 February 2021

خاموش اندھیری راتوں میں جب ساری دنیا سوتی ہے

 خاموش اندھیری راتوں میں جب ساری دنیا سوتی ہے

اک ہجر کا مارا روتا ہے، اور شبنم آنسو دھوتی ہے

پہلے تو محبت رفتہ رفتہ ہوش و خرد کو کھوتی ہے

پھر یاد کسی کی آ آ کر کانٹے سے دل میں چبھوتی ہے

چارہ گر بس یہ بتلا دے وہ جب مجھ سے چُھو جاتے ہیں

کیوں جسم میں موجیں اٹھتی ہیں کیوں نبض میں سُرعت ہوتی ہے

Friday, 29 January 2021

جس قدر قلب کی تسکین کے ساماں ہوں گے

 جس قدر قلب کی تسکین کے ساماں ہوں گے

کرب افزائے سکون غمِ ہجراں ہوں گے

عرصۂ حشر میں جو عشق کا عنواں ہوں گے

میری ہی خاک کے اجزائے پریشاں ہوں گے

اشک معصوم جو خمیازۂ عصیاں ہوں گے

وہ بھی منجملۂ سرمایۂ ایماں ہوں گے

Thursday, 6 October 2016

یوں بھی ترا احسان ہے آنے کے لیے آ

یوں بھی تِرا احسان ہے آنے کے لیے آ
اے دوست! کسی روز نہ جانے کے لیے آ
ہر چند نہیں شوق کو یارائے تماشا
خود کو نہ سہی مجھ کو دکھانے کے لیے آ 
یہ عمر یہ برسات، یہ بھیگی ہوئ راتیں
ان راتوں کو افسانا بنانے کے لیے آ

وہ سامنے جو نگاہیں چرائے جاتے ہیں

وہ سامنے جو نگاہیں چرائے جاتے ہیں
وہ آج کل کے مسیحا بتائے جاتے ہیں
وہی ہو تم کہ جگہ پُتلیوں میں جن کو دی
وہی ہیں ہم کہ نظر سے گِرائے جاتے ہیں 
قصور کس نے کرایا، قصور کس کا ہے
وہ جانتے ہیں تو ہم کیوں ستائے جاتے ہیں

ہر چند بھلاتا ہوں بھلایا نہیں جاتا

ہر چند بھلاتا ہوں، بھلایا نہیں جاتا
اک نقشِ تخیل ہے، مٹایا نہیں جاتا
میں نے جو کہا، درد بڑھایا نہیں جاتا
کہنے لگے، نادان جتایا نہیں جاتا
امید کی کشتی کو سہارا تو لگا دو
مانا کہ تمہیں ساتھ بٹھایا نہیں جاتا

محبت آگ بن جاتی ہے سینے میں نہاں ہو کر

محبت آگ بن جاتی ہے سینے میں نہاں ہو کر
تمنائیں جلا دیتی ہیں دل، چنگاریاں ہو کر
اِدھر بھی تم اُدھر بھی تم یہاں بھی تم وہاں بھی تم
یہ تم نے کِیا قیامت کی نگاہوں سے عیاں ہو کر
انہیں بھی داستانِ ہجر چپکے سے سنا ہی دی
سکونِ شامِ غم بن کر، ستاروں کی زباں ہو کر