بیمارِ غم کا کوئی مداوا نہ کیجیے
یعنی ستمگری بھی گوارا نہ کیجیے
رسوائی ہے تو یہ بھی گوارا نہ کیجیے
یعنی پسِ خیال بھی آیا نہ کیجیے
ظرف نگاہ چاہیے دیدار کے لیے
رخ کو پسِ نقاب چھپایا نہ کیجیے
بیمارِ غم کا کوئی مداوا نہ کیجیے
یعنی ستمگری بھی گوارا نہ کیجیے
رسوائی ہے تو یہ بھی گوارا نہ کیجیے
یعنی پسِ خیال بھی آیا نہ کیجیے
ظرف نگاہ چاہیے دیدار کے لیے
رخ کو پسِ نقاب چھپایا نہ کیجیے
جی بھی کچھ ایسا جلایا ہے کہ جی جانتا ہے
آپ نے اتنا رُلایا ہے کہ جی جانتا ہے
یاد بن کر تِری معصوم وفا نے ظالم
دل پہ وہ نقش بٹھایا ہے کہ جی جانتا ہے
شوقِ گستاخ نے اکثر تمہیں برہم کر کے
ہائے وہ لطف اٹھایا ہے کہ جی جانتا ہے
تقدیر کے آگے کبھی تدبیر کسی کی
چلتی ہو تو سمجھے کوئی تقصیر کسی کی
اب ایک تمنا ہو تو پوری کوئی کر دے
یوں کون بدل سکتا ہے تقدیر کسی کی
دل میں اتر آئی ہے نگاہوں سے سمٹ کر
کس درجہ حیا کوش ہے تصویر کسی کی
خاموش اندھیری راتوں میں جب ساری دنیا سوتی ہے
اک ہجر کا مارا روتا ہے، اور شبنم آنسو دھوتی ہے
پہلے تو محبت رفتہ رفتہ ہوش و خرد کو کھوتی ہے
پھر یاد کسی کی آ آ کر کانٹے سے دل میں چبھوتی ہے
چارہ گر بس یہ بتلا دے وہ جب مجھ سے چُھو جاتے ہیں
کیوں جسم میں موجیں اٹھتی ہیں کیوں نبض میں سُرعت ہوتی ہے
جس قدر قلب کی تسکین کے ساماں ہوں گے
کرب افزائے سکون غمِ ہجراں ہوں گے
عرصۂ حشر میں جو عشق کا عنواں ہوں گے
میری ہی خاک کے اجزائے پریشاں ہوں گے
اشک معصوم جو خمیازۂ عصیاں ہوں گے
وہ بھی منجملۂ سرمایۂ ایماں ہوں گے