Sunday, 7 March 2021

تقدیر کے آگے کبھی تدبیر کسی کی

 تقدیر کے آگے کبھی تدبیر کسی کی

چلتی ہو تو سمجھے کوئی تقصیر کسی کی 

اب ایک تمنا ہو تو پوری کوئی کر دے 

یوں کون بدل سکتا ہے تقدیر کسی کی 

دل میں اتر آئی ہے نگاہوں سے سمٹ کر 

کس درجہ حیا کوش ہے تصویر کسی کی

وہ آئیں نہ آئیں مجھے نیند آ نہیں سکتی

سنتا ہی نہیں نالۂ شب گیر کسی کی

برسات کا اک خواب ہے مستقبل تاریک

بکھری ہوئی سی زلفِ گرہ گیر کسی کی

اللہ یہ تاریک فضائیں یہ گھٹائیں

یہ برق خیالات میں تصویر کسی کی

آنکھیں مِری آنکھیں ہیں زہے جوششِ گریہ

دھل دھل کے نکھر آئی ہے تصویر کسی کی

طالب تِرے جذبات کی تشریح تو کر دوں

ڈر ہے کبھی ہو جائے نہ تشہیر کسی کی


طالب باغپتی

No comments:

Post a Comment