جہاں بھی ہم ٹھہر گئے مقام بولنے لگے
محبتوں کی بولیاں عوام بولنے لگے
سر غرور خم نہیں کوئی کسی سے کم نہیں
سکندروں کے سامنے غلام بولنے لگے
سنی جو جائے آنکھ سے وہ جسم کی زبان ہے
ہزار لب خموش ہوں خرام بولنے لگے
جہاں بھی ہم ٹھہر گئے مقام بولنے لگے
محبتوں کی بولیاں عوام بولنے لگے
سر غرور خم نہیں کوئی کسی سے کم نہیں
سکندروں کے سامنے غلام بولنے لگے
سنی جو جائے آنکھ سے وہ جسم کی زبان ہے
ہزار لب خموش ہوں خرام بولنے لگے
دکھانے کے لیے یاری ہی کر لیں
محبت کی اداکاری ہی کر لیں💕
نبھانی پڑتی ہیں دنیا کی رسمیں
چلو دشمن کی غمخواری ہی کر لیں
بغیر اس کے نہیں جی پائیں گے ہم
یہ کہہ کر خود مکاری ہی کر لیں
کیسے نبھے گی سوچتا صبح سے لے کر شام
اس کی خصلت نیم سی، میری طبیعت آم
قدم قدم پر پیڑ تھے یوں تو سائے دار
سورج کاندھے پر لیے گھوما صبح سے شام
کل یُگ کے ہم واسی ہیں الگ الگ پہچان
تُو بھی تو رادھا نہیں، میں بھی نہیں گھنشام
سینے میں اس کے اک دل درد آشنا تو ہے
وہ فلسفی نہیں ہے مگر سوچتا تو ہے
تازہ ہوا سے کہہ دو چلی آئے بے خطر
در بند ہے ضرور دریچہ کھلا تو ہے
قسمت پہ ناز کیوں نہ کروں مدتوں کے بعد
تم سا رہِ حیات میں ساتھی ملا تو ہے
زمین کا مذہب
نہیں ہے کوئی زمیں کا مذہب
جو جی آئے
بناؤ اس پر
وہ مسجدیں ہوں کہ شوالے
وہ گردوارے کہ ہوں کلیسا
نہیں ہے کوئی زمیں کا مذہب
سڑے دماغوں کے دانشوروں کا کیا ہو گا
جو پاؤں چھوڑ دیں چلنا، سروں کا کیا ہو گا
میں اُڑ رہا تھا فضا کی دسوں دِشاؤں میں
کبھی یہ سوچا نہیں تھا، پروں کا کیا ہو گا
خِرد کی دوڑ میں بازی تو مار لی، لیکن
دلوں کے کھیل میں کمپیوٹروں کا کیا ہو گا
گداز قلب و نظر ذہن انقلابی دے
قدم قدم تجھے اللہ کامیابی دے
ڈھکا ہوا ہوں میں تہذیب کے لبادے میں
مِرے خدا! مجھے اب عزمِ بے نقابی دے
تمام عمر کٹی ہے سُلگتے صحرا میں
میرے رفیق! اب اک رات تو گلابی دے