Showing posts with label شفق تنویر. Show all posts
Showing posts with label شفق تنویر. Show all posts

Sunday, 21 December 2025

جہاں بھی ہم ٹھہر گئے مقام بولنے لگے

 جہاں بھی ہم ٹھہر گئے مقام بولنے لگے

محبتوں کی بولیاں عوام بولنے لگے

سر غرور خم نہیں کوئی کسی سے کم نہیں

سکندروں کے سامنے غلام بولنے لگے

سنی جو جائے آنکھ سے وہ جسم کی زبان ہے

ہزار لب خموش ہوں خرام بولنے لگے

Friday, 3 October 2025

دکھانے کے لیے یاری ہی کر لیں

 دکھانے کے لیے یاری ہی کر لیں

محبت کی اداکاری ہی کر لیں💕

نبھانی پڑتی ہیں دنیا کی رسمیں

چلو دشمن کی غمخواری ہی کر لیں

بغیر اس کے نہیں جی پائیں گے ہم

یہ کہہ کر خود مکاری ہی کر لیں

Friday, 1 August 2025

کیسے نبھے گی سوچتا صبح سے لے کر شام

 کیسے نبھے گی سوچتا صبح سے لے کر شام

اس کی خصلت نیم سی، میری طبیعت آم

قدم قدم پر پیڑ تھے یوں تو سائے دار

سورج کاندھے پر لیے گھوما صبح سے شام

کل یُگ کے ہم واسی ہیں الگ الگ پہچان

تُو بھی تو رادھا نہیں، میں بھی نہیں گھنشام

Sunday, 2 March 2025

سینے میں اس کے اک دل درد آشنا تو ہے

 سینے میں اس کے اک دل درد آشنا تو ہے

وہ فلسفی نہیں ہے مگر سوچتا تو ہے

تازہ ہوا سے کہہ دو چلی آئے بے خطر

در بند ہے ضرور دریچہ کھلا تو ہے

قسمت پہ ناز کیوں نہ کروں مدتوں کے بعد

تم سا رہِ حیات میں ساتھی ملا تو ہے

Tuesday, 28 January 2025

نہیں ہے کوئی زمیں کا مذہب

 زمین کا مذہب

نہیں ہے کوئی زمیں کا مذہب

جو جی آئے

بناؤ اس پر

وہ مسجدیں ہوں کہ شوالے

وہ گردوارے کہ ہوں کلیسا

نہیں ہے کوئی زمیں کا مذہب

Tuesday, 26 November 2024

سڑے دماغوں کے دانشوروں کا کیا ہو گا

 سڑے دماغوں کے دانشوروں کا کیا ہو گا

جو پاؤں چھوڑ دیں چلنا، سروں کا کیا ہو گا

میں اُڑ رہا تھا فضا کی دسوں دِشاؤں میں

کبھی یہ سوچا نہیں تھا، پروں کا کیا ہو گا

خِرد کی دوڑ میں بازی تو مار لی، لیکن

دلوں کے کھیل میں کمپیوٹروں کا کیا ہو گا

Monday, 25 November 2024

گداز قلب و نظر ذہن انقلابی دے

 گداز قلب و نظر ذہن انقلابی دے

قدم قدم تجھے اللہ کامیابی دے

ڈھکا ہوا ہوں میں تہذیب کے لبادے میں

مِرے خدا! مجھے اب عزمِ بے نقابی دے

تمام عمر کٹی ہے سُلگتے صحرا میں

میرے رفیق! اب اک رات تو گلابی دے