دور صحرا میں جہاں دھوپ شجر رکھتی ہے
آنکھ کیا شے ہے کہاں جا کے نظر رکھتی ہے
اور کچھ روز ابھی صور نہ پھونکا جائے
اس کے دربار میں دنیا ابھی سر رکھتی ہے
لوگ منزل پہ بہت خوش ہیں مگر منزل بھی
لمحہ لمحہ پسِ امکان سفر رکھتی ہے
دور صحرا میں جہاں دھوپ شجر رکھتی ہے
آنکھ کیا شے ہے کہاں جا کے نظر رکھتی ہے
اور کچھ روز ابھی صور نہ پھونکا جائے
اس کے دربار میں دنیا ابھی سر رکھتی ہے
لوگ منزل پہ بہت خوش ہیں مگر منزل بھی
لمحہ لمحہ پسِ امکان سفر رکھتی ہے
ایک اک موج کو سونے کی قبا دیتی ہے
شام سُورج کو سمندر میں چھُپا دیتی ہے
ایک چہرہ مجھے روزانہ سکوں دیتا ہے
ایک تصویر مجھے روز رُلا دیتی ہے
عیب شہرت میں نہیں اس کا نشہ قاتل ہے
یہ ہوا کتنے چراغوں کو بُجھا دیتی ہے
آج بھی جس کی ہے امید وہ کل آئے ہوئے
ان درختوں پہ زمانہ ہوا پھل آئے ہوئے
کوئی چہرہ ہے جو لگتا نہ ہو مرجھایا ہوا
کوئی پیشانی ہے جس پر نہ ہوں بل آئے ہوئے
اک نظر دیکھ لے شاید تجھے یاد آ جائیں
ہم وہی ہیں تِری محفل سے نکل آئے ہوئے
یہ جو ربط رو بہ زوال ہے یہ سوال ہے
مجھے اس کا کتنا ملال ہے یہ سوال ہے
یہ جو سر پہ میرے وبال ہے یہ سوال ہے
یہ جو گرد و پیش کا حال ہے یہ سوال ہے
مجھے کیا غرض مِرے دشمنوں کا ہدف ہے کیا
مِرے پاس کون سی ڈھال ہے یہ سوال ہے
کوئی لہجہ کوئی جملہ کوئی چہرہ نکل آیا
پرانے طاق کے سامان سے کیا کیا نکل آیا
بظاہر اجنبی بستی سے جب کچھ دیر باتیں کیں
یہاں کی ایک اک شے سے مرا رشتہ نکل آیا
مرے آنسو ہوئے تھے جذب جس مٹی میں اب اس پر
کہیں پودا کہیں سبزہ کہیں چشمہ نکل آیا
اک عذاب ہوتا ہے روز جی کا کھونا بھی
رو کے مسکرانا بھی، مسکرا کے رونا بھی
رونقیں تھی شہروں میں، برکتیں محلوں میں
اب کہاں میسر ہے گھر میں گھر کا ہونا بھی
دل کے کھیل میں ہر دم احتیاط لازم ہے
ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے ورنہ یہ کھلونا بھی