Showing posts with label شاہد لطیف. Show all posts
Showing posts with label شاہد لطیف. Show all posts

Saturday, 5 February 2022

دور صحرا میں جہاں دھوپ شجر رکھتی ہے

 دور صحرا میں جہاں دھوپ شجر رکھتی ہے

آنکھ کیا شے ہے کہاں جا کے نظر رکھتی ہے

اور کچھ روز ابھی صور نہ پھونکا جائے

اس کے دربار میں دنیا ابھی سر رکھتی ہے

لوگ منزل پہ بہت خوش ہیں مگر منزل بھی

لمحہ لمحہ پسِ امکان سفر رکھتی ہے

Monday, 14 June 2021

ایک اک موج کو سونے کی قبا دیتی ہے

 ایک اک موج کو سونے کی قبا دیتی ہے

شام سُورج کو سمندر میں چھُپا دیتی ہے

ایک چہرہ مجھے روزانہ سکوں دیتا ہے

ایک تصویر مجھے روز رُلا دیتی ہے

عیب شہرت میں نہیں اس کا نشہ قاتل ہے

یہ ہوا کتنے چراغوں کو بُجھا دیتی ہے

Sunday, 13 June 2021

آج بھی جس کی ہے امید وہ کل آئے ہوئے

 آج بھی جس کی ہے امید وہ کل آئے ہوئے

ان درختوں پہ زمانہ ہوا پھل آئے ہوئے

کوئی چہرہ ہے جو لگتا نہ ہو مرجھایا ہوا

کوئی پیشانی ہے جس پر نہ ہوں بل آئے ہوئے

اک نظر دیکھ لے شاید تجھے یاد آ جائیں

ہم وہی ہیں تِری محفل سے نکل آئے ہوئے

Saturday, 12 June 2021

یہ جو ربط رو بہ زوال ہے یہ سوال ہے

 یہ جو ربط رو بہ زوال ہے یہ سوال ہے

مجھے اس کا کتنا ملال ہے یہ سوال ہے

یہ جو سر پہ میرے وبال ہے یہ سوال ہے

یہ جو گرد و پیش کا حال ہے یہ سوال ہے

مجھے کیا غرض مِرے دشمنوں کا ہدف ہے کیا

مِرے پاس کون سی ڈھال ہے یہ سوال ہے

Tuesday, 8 June 2021

کوئی لہجہ کوئی جملہ کوئی چہرہ نکل آیا

 کوئی لہجہ کوئی جملہ کوئی چہرہ نکل آیا

پرانے طاق کے سامان سے کیا کیا نکل آیا

بظاہر اجنبی بستی سے جب کچھ دیر باتیں کیں

یہاں کی ایک اک شے سے مرا رشتہ نکل آیا

مرے آنسو ہوئے تھے جذب جس مٹی میں اب اس پر

کہیں پودا کہیں سبزہ کہیں چشمہ نکل آیا

Friday, 29 January 2021

اک عذاب ہوتا ہے روز جی کا کھونا بھی

 اک عذاب ہوتا ہے روز جی کا کھونا بھی

رو کے مسکرانا بھی، مسکرا کے رونا بھی

رونقیں تھی شہروں میں، برکتیں محلوں میں

اب کہاں میسر ہے گھر میں گھر کا ہونا بھی

دل کے کھیل میں ہر دم احتیاط لازم ہے

ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے ورنہ یہ کھلونا بھی