Tuesday, 8 June 2021

کوئی لہجہ کوئی جملہ کوئی چہرہ نکل آیا

 کوئی لہجہ کوئی جملہ کوئی چہرہ نکل آیا

پرانے طاق کے سامان سے کیا کیا نکل آیا

بظاہر اجنبی بستی سے جب کچھ دیر باتیں کیں

یہاں کی ایک اک شے سے مرا رشتہ نکل آیا

مرے آنسو ہوئے تھے جذب جس مٹی میں اب اس پر

کہیں پودا کہیں سبزہ کہیں چشمہ نکل آیا

خدا نے ایک ہی مٹی سے گوندھا سب کو اک جیسا

مگر ہم میں کوئی ادنیٰ کوئی اعلیٰ نکل آیا

سبھی سے فاصلہ رکھنے کی عادت تھی سو اب بھی ہے

پرایا کون تھا جو شہر میں اپنا نکل آیا

نئے ماحول نے پہچان ہی مشکوک کر ڈالی

جو بے چہرہ تھے کل تک ان کے بھی چہرہ نکل آیا


شاہد لطیف

No comments:

Post a Comment