پیچ گیسُو کے تا کمر نکلے
عشق بے پر کے بال و پر نکلے
حُسن پر مر مٹے ہیں اہلِ دل
اور خریدار اہلِ زر نکلے
چاند تاروں کے رازداں اب تک
دل کے عالم سے بے خبر نکلے
رات میں لُٹ کے غرق حیرت ہوں
راہزن دن کے راہبر نکلے
اہلِ زر کے لیے جو پھول بنے
اہلِ دل کے لیے شرر نکلے
مُنجمد ہو گئی ہے ظُلمتِ شب
مہر صورت کوئی قمر نکلے
بُجھ رہے ہیں چراغ آخرِ شب
جھٹپٹے سے کہیں سحر نکلے
کیسے سمجھاؤں اہلِ دُنیا کو
کوئی مجھ سا نہ بے ہُنر نکلے
میں ہی غیرت کا وہ جنازہ ہوں
جس کو لازم ہے عُمر بھر نکلے
طفیل دارا
No comments:
Post a Comment