Showing posts with label مرزا فیصل. Show all posts
Showing posts with label مرزا فیصل. Show all posts

Wednesday, 5 April 2023

چھوڑ کر وہ چلا گیا مجھ کو

 چھوڑ کر وہ چلا گیا مجھ کو

جس نے دینا تھا حوصلہ مجھ کو

سوچتا ہوں مرا گنہ کیا ہے

گھورتا کیوں ہے آئینہ مجھ کو

تُو نہ ہوتا تو عمر بھر ہوتا

بدنصیبی کا سامنا مجھ کو

Thursday, 17 March 2022

یعنی باتوں میں آ گیا تو بھی

 یعنی باتوں میں آ گیا تُو بھی

آج تو اجنبی لگا تو بھی

وقت کب روکنے سے رکتا ہے

روکنے سے نہیں رکا تو بھی

دوستوں کا بھی ناپسندیده

اور مجھ سے گریز پا تو بھی

Saturday, 5 March 2022

آنکھ پانی دل دیا ہو جائے گا

 آنکھ پانی، دل دِیا ہو جائے گا

عشق کا جب تجربہ ہو جائے گا

فرض کرلیتا ہوں میں، میرا ہے وه

فرض کر لینے سے کیا ہو جائے گا

خود گواہی دوں گا میں اپنے خلاف

تیرے حق میں فیصلہ ہو جائے گا

Tuesday, 1 February 2022

آسماں سر پہ اٹھا لوں اگر اجازت ہو

 آسماں سر پہ اٹھا لوں اگر اجازت ہو؟

میں ذرا شور مچا لوں اگر اجازت ہو

زخم جو تم نے لگایا ہے اسی زخم پہ میں

زخم اک اور لگا لوں اگر اجازت ہو

تیرے چہرے سے نظر ہٹ نہیں رہی مری

میں یہاں عمر بِتا لوں اگر اجازت ہو

Friday, 7 January 2022

شاعری سے بڑی زباں کوئی ہے

 شاعری سے بڑی زباں کوئی ہے

خامشی بول اٹھی کہ ہاں، کوئی ہے

جانتا ہوں کہاں کہاں کوئی تھا

خوش رہے اب جہاں جہاں کوئی ہے

عِشق میں فائدہ ہوا مجھ کو

اس سے بڑھ کے بتا زیاں کوئی ہے

Thursday, 6 January 2022

کسی نے بھیج دی واپس مجھے نشانی مری

 کسی نے بھیج دی واپس مجھے نشانی مِری

نکل گئی میرے اندر سے خوش گمانی مری

ابھی تو درد ہے وحشت ہے خوف طاری ہے

میں آؤں گا تو سمجھ آئے گی کہانی مری

نہ چھیڑ قصۂ رفتہ، ہُوا، ہُوا، جو ہُوا

تُو مجھ کو دل سے بتا تُو نے بات مانی مری

Wednesday, 30 June 2021

اپنی خاطر بهی تو آتا نہیں جذبات میں میں

 اپنی خاطر بهی تو آتا نہیں جذبات میں میں

دیکھ لو، کتنا اکیلا ہوں اپنی ذات میں میں

ایک ہی رات کی مہلت مجهے دی ہے اس نے

کیا کوئی معجزہ کر پاؤں گا ایک رات میں میں

کس طرح خود کو سمیٹوں، میری جاں کے دُشمن

تُو بتا، کس طرح آیا تها تِرے ہاتھ میں میں