چھوڑ کر وہ چلا گیا مجھ کو
جس نے دینا تھا حوصلہ مجھ کو
سوچتا ہوں مرا گنہ کیا ہے
گھورتا کیوں ہے آئینہ مجھ کو
تُو نہ ہوتا تو عمر بھر ہوتا
بدنصیبی کا سامنا مجھ کو
چھوڑ کر وہ چلا گیا مجھ کو
جس نے دینا تھا حوصلہ مجھ کو
سوچتا ہوں مرا گنہ کیا ہے
گھورتا کیوں ہے آئینہ مجھ کو
تُو نہ ہوتا تو عمر بھر ہوتا
بدنصیبی کا سامنا مجھ کو
یعنی باتوں میں آ گیا تُو بھی
آج تو اجنبی لگا تو بھی
وقت کب روکنے سے رکتا ہے
روکنے سے نہیں رکا تو بھی
دوستوں کا بھی ناپسندیده
اور مجھ سے گریز پا تو بھی
آنکھ پانی، دل دِیا ہو جائے گا
عشق کا جب تجربہ ہو جائے گا
فرض کرلیتا ہوں میں، میرا ہے وه
فرض کر لینے سے کیا ہو جائے گا
خود گواہی دوں گا میں اپنے خلاف
تیرے حق میں فیصلہ ہو جائے گا
آسماں سر پہ اٹھا لوں اگر اجازت ہو؟
میں ذرا شور مچا لوں اگر اجازت ہو
زخم جو تم نے لگایا ہے اسی زخم پہ میں
زخم اک اور لگا لوں اگر اجازت ہو
تیرے چہرے سے نظر ہٹ نہیں رہی مری
میں یہاں عمر بِتا لوں اگر اجازت ہو
شاعری سے بڑی زباں کوئی ہے
خامشی بول اٹھی کہ ہاں، کوئی ہے
جانتا ہوں کہاں کہاں کوئی تھا
خوش رہے اب جہاں جہاں کوئی ہے
عِشق میں فائدہ ہوا مجھ کو
اس سے بڑھ کے بتا زیاں کوئی ہے
کسی نے بھیج دی واپس مجھے نشانی مِری
نکل گئی میرے اندر سے خوش گمانی مری
ابھی تو درد ہے وحشت ہے خوف طاری ہے
میں آؤں گا تو سمجھ آئے گی کہانی مری
نہ چھیڑ قصۂ رفتہ، ہُوا، ہُوا، جو ہُوا
تُو مجھ کو دل سے بتا تُو نے بات مانی مری
اپنی خاطر بهی تو آتا نہیں جذبات میں میں
دیکھ لو، کتنا اکیلا ہوں اپنی ذات میں میں
ایک ہی رات کی مہلت مجهے دی ہے اس نے
کیا کوئی معجزہ کر پاؤں گا ایک رات میں میں
کس طرح خود کو سمیٹوں، میری جاں کے دُشمن
تُو بتا، کس طرح آیا تها تِرے ہاتھ میں میں