آنکھ پانی، دل دِیا ہو جائے گا
عشق کا جب تجربہ ہو جائے گا
فرض کرلیتا ہوں میں، میرا ہے وه
فرض کر لینے سے کیا ہو جائے گا
خود گواہی دوں گا میں اپنے خلاف
تیرے حق میں فیصلہ ہو جائے گا
بند کر لوں آنکھ نہ دیکھوں اسے
ورنہ، وه دیکھا ہوا ہو جائے گا
عاشقی اور شاعری دو کام ہیں
ایک کر لے، دوسرا ہو جائے گا
مرزا فیصل
No comments:
Post a Comment