رزمیہ ملی ترانہ
ہمارے پاک وطن کی شان
ہمارے شیر دلیر جوان
خدا کی رحمت اِن کے ساتھ
خدا کا ہاتھ ہے اِن کا ہاتھ
ہے اِن کے دَم سے پاکستان
ہمارے شیر دلیر جوان
رزمیہ ملی ترانہ
ہمارے پاک وطن کی شان
ہمارے شیر دلیر جوان
خدا کی رحمت اِن کے ساتھ
خدا کا ہاتھ ہے اِن کا ہاتھ
ہے اِن کے دَم سے پاکستان
ہمارے شیر دلیر جوان
ہر محاذِ جنگ پر ہم لڑیں گے بے خطر (رزمیہ ملی ترانہ)
وادیوں میں گھاٹیوں میں سر بکف
بادلوں کے ساتھ ساتھ صف بہ صف
دشمنوں کے مورچوں پہ ہر طرف
ہر محاذِ جنگ پر ہم لڑیں گے بے خطر
بے مثال ارضِ پاک کے جواں
ہنستے پھُولو ہنستے رہنا
ہنستے پھُولو ہنستے رہنا
تم ہو پاک وطن کا گہنا
دُھوم ہے گھر گھر آج تمہاری
خُوشبو کی نہریں ہیں جاری
شاخوں نے پھر گہنا پہنا
ہنستے پھُولو ہنستے رہنا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ کون طائرِ سدرہ سے ہم کلام آیا
جہانِ خاک کو پھر عرش کا سلام آیا
جبیں بھی سجدہ طلب ہے یہ کیا مقام آیا
زباں پہ بار خدایا! یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مِری زباں کے لیے
خطِ جبیں تِرا امّ الکتاب کی تفسیر
فکر تعمیرِ آشیاں بھی ہے
خوفِ بے مہرئ خزاں بھی ہے
خاک بھی اڑ رہی ہے رستوں میں
آمدِ صبح کا سماں بھی ہے
رنگ بھی اُڑ رہا ہے پُھولوں کا
غُنچہ غُنچہ شرر فشاں بھی ہے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین
لہو لہو ہے زبانِ قلم بیاں کے لیے
یہ گُل چُنے ہیں شہیدوں کی داستاں کے لیے
کھڑے ہیں شاہؑ کمر بستہ امتحاں کے لیے
پِھر ایسی رات کب آئے گی آسماں کے لیے
دِیا بُجھا کے یہ کہتے تھے ساتھیوں سے حسینؑ
جو چاہو، ڈھونڈ لو رستہ کوئی اماں کے لیے
جب تیری یاد کے بازار سے لگ جاتے ہیں
ڈر کہ ہم بھیڑ میں دیوار سے لگ جاتے ہیں
ہجر کے پیڑ سے جب یاد کا پھل گرتا ہے
دل میں پھر درد کے انبار سے لگ جاتے ہیں
اس سفر پہ جو چلے ہیں تو یہی جانا ہے
عشق میں ہجر کے آزار سے لگ جاتے ہیں
اس دنیا میں اپنا کیا ہے
کہنے کو سب کچھ اپنا ہے
یوں تو شبنم بھی دریا ہے
یوں تو دریا بھی پیاسا ہے
یوں تو ہر ہیرا بھی کنکر
یوں تو مٹی بھی سونا ہے
یہ بھی کیا شامِ ملاقات آئی
لب پہ مشکل سے تری بات آئی
صبح سے چپ ہیں ترے ہجر نصیب
ہائے کیا ہو گا اگر رات آئی
بستیاں چھوڑ کر برسے بادل
کس قیامت کی یہ برسات آئی
دیس سبز جھلیوں کا
یہ سفر ہے میلوں کا
راہ میں جزیروں کی
سلسلہ ہے ٹیلوں کا
کشتیوں کی لاشوں پر
جمگھٹا ہے چیلوں کا
آدمی ہے نہ آدمی کی ذات
کیسی ویراں ہے تیرے شہر کی رات
پوچھ لے ان اجاڑ گلیوں سے
تجھے ڈھونڈا ہے ساری ساری رات
میں تو بیتے دنوں کی کھوج میں ہوں
تُو کہاں تک چلے گا میرے ساتھ