Showing posts with label ناصر کاظمی. Show all posts
Showing posts with label ناصر کاظمی. Show all posts

Thursday, 15 May 2025

شیر دلیر جوان ہمارے پاک وطن کی شان

 رزمیہ ملی ترانہ


ہمارے پاک وطن کی شان

ہمارے شیر دلیر جوان


خدا کی رحمت اِن کے ساتھ

خدا کا ہاتھ ہے اِن کا ہاتھ

ہے اِن کے دَم سے پاکستان

ہمارے شیر دلیر جوان

Wednesday, 14 May 2025

ہر محاذ جنگ پر ہم لڑیں گے بے خطر

 ہر محاذِ جنگ پر ہم لڑیں گے بے خطر (رزمیہ ملی ترانہ)


وادیوں میں گھاٹیوں میں سر بکف

بادلوں کے ساتھ ساتھ صف بہ صف

دشمنوں کے مورچوں پہ ہر طرف

ہر محاذِ جنگ پر ہم لڑیں گے بے خطر


بے مثال ارضِ پاک کے جواں

Saturday, 7 September 2024

ہنستے پھولو ہنستے رہنا

 ہنستے پھُولو ہنستے رہنا


ہنستے پھُولو ہنستے رہنا

تم ہو پاک وطن کا گہنا


دُھوم ہے گھر گھر آج تمہاری

خُوشبو کی نہریں ہیں جاری

شاخوں نے پھر گہنا پہنا

ہنستے پھُولو ہنستے رہنا

Friday, 30 June 2023

یہ کون طائر سدرہ سے ہم کلام آیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہ کون طائرِ سدرہ سے ہم کلام آیا

جہانِ خاک کو پھر عرش کا سلام آیا

جبیں بھی سجدہ طلب ہے یہ کیا مقام آیا

زباں پہ بار خدایا! یہ کس کا نام آیا

کہ میرے نطق نے بوسے مِری زباں کے لیے

خطِ جبیں تِرا امّ الکتاب کی تفسیر

Saturday, 4 March 2023

فکر تعمیر آشیاں بھی ہے

 فکر تعمیرِ آشیاں بھی ہے

خوفِ بے مہرئ خزاں بھی ہے

خاک بھی اڑ رہی ہے رستوں میں

آمدِ صبح کا سماں بھی ہے

رنگ بھی اُڑ رہا ہے پُھولوں کا

غُنچہ غُنچہ شرر فشاں بھی ہے

Monday, 8 August 2022

لہو لہو ہے زبان قلم بیاں کے لیے

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین


لہو لہو ہے زبانِ قلم بیاں کے لیے

یہ گُل چُنے ہیں شہیدوں کی داستاں کے لیے

کھڑے ہیں شاہؑ کمر بستہ امتحاں کے لیے

پِھر ایسی رات کب آئے گی آسماں کے لیے

دِیا بُجھا کے یہ کہتے تھے ساتھیوں سے حسینؑ

جو چاہو، ڈھونڈ لو رستہ کوئی اماں کے لیے

Tuesday, 3 May 2022

جب تیری یاد کے بازار سے لگ جاتے ہیں

 جب تیری یاد کے بازار سے لگ جاتے ہیں

ڈر کہ ہم بھیڑ میں دیوار سے لگ جاتے ہیں

ہجر کے پیڑ سے جب یاد کا پھل گرتا ہے

دل میں پھر درد کے انبار سے لگ جاتے ہیں

اس سفر پہ جو چلے ہیں تو یہی جانا ہے

عشق میں ہجر کے آزار سے لگ جاتے ہیں

Tuesday, 20 October 2020

اس دنیا میں اپنا کیا ہے

 اس دنیا میں اپنا کیا ہے

کہنے کو سب کچھ اپنا ہے

یوں تو شبنم بھی دریا ہے

یوں تو دریا بھی پیاسا ہے

یوں تو ہر ہیرا بھی کنکر

یوں تو مٹی بھی سونا ہے

Sunday, 18 October 2020

یہ بھی کیا شام ملاقات آئی

 یہ بھی کیا شامِ ملاقات آئی

لب پہ مشکل سے تری بات آئی

صبح سے چپ ہیں ترے ہجر نصیب

ہائے کیا ہو گا اگر رات آئی

بستیاں چھوڑ کر برسے بادل

کس قیامت کی یہ برسات آئی

Friday, 9 October 2020

دیس سبز جھلیوں کا

 دیس سبز جھلیوں کا

یہ سفر ہے میلوں کا

راہ میں جزیروں کی

سلسلہ ہے ٹیلوں کا

کشتیوں کی لاشوں پر

جمگھٹا ہے چیلوں کا

Saturday, 3 October 2020

آدمی ہے نہ آدمی کی ذات

 آدمی ہے نہ آدمی کی ذات 

کیسی ویراں ہے تیرے شہر کی رات 

پوچھ لے ان اجاڑ گلیوں سے 

تجھے ڈھونڈا ہے ساری ساری رات 

میں تو بیتے دنوں کی کھوج میں ہوں 

تُو کہاں تک چلے گا میرے ساتھ 

Tuesday, 15 September 2020

گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ

گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ
بستی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگ
سارا سارا دن گلیوں میں پھرتے ہیں بے کار
راتوں اٹھ اٹھ کر روتے ہیں اس نگری کے لوگ
سہمے سہمے سے بیٹھے ہیں راگی اور فنکار
بھور بھئے اب ان گلیوں میں کون سنائے جوگ

پردے میں ہر آواز کے شامل تو وہی ہے

پردے میں ہر آواز کے شامل تو وہی ہے
ہم لاکھ بدل جائیں مگر دل تو وہی ہے
موضوع سخن ہے وہی افسانۂ شیریں
محفل ہو کوئی رونق محفل تو وہی ہے
محسوس جو ہوتا ہے دکھائی نہیں دیتا
دل اور نظر میں حد فاضل تو وہی ہے

Friday, 2 March 2018

خون دل سے لکھی ہے ساری غزل

کیوں نہ سرسبز ہو ہماری غزل
خونِ دل سے لکھی ہے ساری غزل
جتنی پیاری ہے تیری یاد مجھے
لب پہ آتی ہے ویسی پیاری غزل
سالہا سال رنج کھینچے ہیں
میں نے شیشے میں جب اتاری غزل

کنج کنج نغمہ زن بسنت آ گئی

کُنج کُنج نغمہ زن، بسنت آ گئی
اب سجے گی انجمن، بسنت آ گئی
اڑ رہے ہیں شہر میں پتنگ رنگ رنگ
جگمگا اٹھا گگن، بسنت آ گئی
موہنے لبھانے والے پیارے پیارے لوگ
دیکھنا چمن چمن، بسنت آ گئی

Sunday, 18 February 2018

یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے

یوں تِرے حسن کی تصویر غزل میں آئے 
جیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آئے 
جبر سے ایک ہوا ذائقۂ ہجر و وصال 
اب کہاں سے وہ مزا صبر کے پھل میں آئے 
ہمسفر تھی جہاں فرہاد کے تیشے کی صدا
وہ مقامات بھی کچھ سیرِِ جبل میں آئے

یاس میں جب کبھی آنسو نکلا

یاس میں جب کبھی آنسو نکلا 
اک نئی یاد کا پہلو نکلا
لے اڑی سبزۂ خودرو کی مہک 
پھر تِری یاد کا پہلو نکلا
میٹھی بولی میں پپیہے بولے
گنگناتا ہوا جب تُو نکلا

رات ڈھل رہی ہے

رات ڈھل رہی ہے
ناؤ چل رہی ہے
برف کے نگر میں
آگ جل رہی ہے
لوگ سو رہے ہیں
رت بدل رہی ہے

Thursday, 2 March 2017

یوں تیرے حسن کی تصویر غزل میں آئے

یوں تیرے حسن کی تصویر غزل میں آئے
جیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آئے
جبر سے ایک ہوا ذائقۂ ہجر و وصال
اب کہاں سے وہ مزا صبر کے پھل میں آئے
ہمسفر تھی جہاں فرہاد کے تیشے کی صدا
وہ مقامات بھی کچھ سیرِ جبل میں آئے

بدلی نہ اس کی روح کسی انقلاب میں

بدلی نہ اس کی روح کسی انقلاب میں
کیا چیز زندہ بند ہے دل کے رباب میں
لفظوں میں بولتا ہے رگِ عصر کا لہو
لکھتا ہے دستِ غیب کوئی اس کتاب میں
تُو ڈھونڈتی ہے اب کسے اے شامِ زندگی
دو دن تو خرچ ہو گئے غم کے حساب میں