باغی پرندے
مندروں کی گھنٹیاں شور پیدا کرتی ہیں
سات پھیرے یا تین دفعہ سر کا ہلانا
مسجدوں، مندروں میں سناٹا بڑھا دیتا ہے
گِرجا گھروں کے اندر ایک دوسرے میں پیوست ہونٹ
شہر کی تاریکی کو بڑھا دیتے ہیں
باغی پرندے
مندروں کی گھنٹیاں شور پیدا کرتی ہیں
سات پھیرے یا تین دفعہ سر کا ہلانا
مسجدوں، مندروں میں سناٹا بڑھا دیتا ہے
گِرجا گھروں کے اندر ایک دوسرے میں پیوست ہونٹ
شہر کی تاریکی کو بڑھا دیتے ہیں
اب ڈر نہیں لگتا
ایک ڈر تھا تنہائی کا
ایک ڈر تھا جدائی کا
جو مسلسل میرے ساتھ رہتا تھا
کل کا دن جو گزر گیا
بہت بھاری لگتا تھا
کل ہی کی بات نہیں ہوتی (نظم سے اقتباس)
دہلیز پر جو خواب ٹوٹا ہے
وہ کل کا تو نہیں تھا
وہ تو نہ جانے کتنے سالوں سے
نانیوں اور دادیوں نے الھڑ آنکھوں میں جگا رکھا تھا
یہ جو دیوار پر لگی تصویر اچانک دھڑام سے نیچے گر گئی ہے
یہ کل ہی تو نہیں ٹانگی گئی تھی
الوداع
مجھے ہجرت کا غم اس روز بھول گیا
جب وطن کی مٹی سے اٹھنے والی
بے حسی اور منافقت نے
میرے تن من کو جلا کر راکھ کر دیا
روبینہ فیصل