Showing posts with label روبینہ فیصل. Show all posts
Showing posts with label روبینہ فیصل. Show all posts

Friday, 2 January 2026

مندروں کی گھنٹیاں شور پیدا کرتی ہیں

 باغی پرندے


مندروں کی گھنٹیاں شور پیدا کرتی ہیں

سات پھیرے یا تین دفعہ سر کا ہلانا

مسجدوں، مندروں میں سناٹا بڑھا دیتا ہے

گِرجا گھروں کے اندر ایک دوسرے میں پیوست ہونٹ

شہر کی تاریکی کو بڑھا دیتے ہیں

Tuesday, 17 June 2025

ایک ڈر تھا تنہائی کا ایک ڈر تھا جدائی کا

 اب ڈر نہیں لگتا


ایک ڈر تھا تنہائی کا

ایک ڈر تھا جدائی کا

جو مسلسل میرے ساتھ رہتا تھا

کل کا دن جو گزر گیا

بہت بھاری لگتا تھا

Monday, 9 December 2024

کل ہی کی بات نہیں ہوتی

 کل ہی کی بات نہیں ہوتی (نظم سے اقتباس)


دہلیز پر جو خواب ٹوٹا ہے

وہ کل کا تو نہیں تھا

وہ تو نہ جانے کتنے سالوں سے

نانیوں اور دادیوں نے الھڑ آنکھوں میں جگا رکھا تھا

یہ جو دیوار پر لگی تصویر اچانک دھڑام سے نیچے گر گئی ہے

یہ کل ہی تو نہیں ٹانگی گئی تھی

Friday, 18 December 2020

مجھے ہجرت کا غم اس روز بھول گیا

الوداع


مجھے ہجرت کا غم اس روز بھول گیا

جب وطن کی مٹی سے اٹھنے والی

بے حسی اور منافقت نے

میرے تن من کو جلا کر راکھ کر دیا


روبینہ فیصل