بتائیں کس طرح اے دل کسے دیکھا کہاں دیکھا
وہی جلوہ نما جس طرف دیکھا جہاں دیکھا
کوئی پوچھے نبیؐ سے کیا شہ کون و مکاں دیکھا
پس پردہ تھا کیا اور کیا سر پردہ وہاں دیکھا
کہیں گے جان جاں نے جلوہ جانانِ جاں دیکھا
اٹھا پردہ تو دستِ حضرت حیدرؑ عیاں دیکھا
یہ کس کا نام آیا ہے کہ محفل جھوم اٹھّی ہے
کمال عشق ہر چہرہ مثال گُل رُخاں دیکھا
چھلک جائے گا اے ساقی متاعِ جاں کا پیمانہ
اگر تم نے نہ اب کہ جانبِ تشنہ دہاں دیکھا
اتر آ سینۂ حسرت میں تو یہ دل بھی کہ ڈالے
علیؑ کے نُور سے روشن مکان لامکاں دیکھا
تِرا ہی تذکرہ جاناں زبان عشق سے ہم نے
فرازِ دار پر دیکھا، سرِ نوکِ سِناں دیکھا
علی فراز رضوی
No comments:
Post a Comment