Showing posts with label عصمت اللہ ساحل. Show all posts
Showing posts with label عصمت اللہ ساحل. Show all posts

Friday, 3 March 2023

آتا ہے یاد اب تک کالج کا وہ زمانہ

 کالج کے نام


آتا ہے یاد اب تک کالج کا وہ زمانا

تھی آٹھ کی وہ ٹائمنگ اور روز لیٹ آنا

اک پیریڈ تھا انگلش کہ ٹیچر سے پہلے پہلے

ٹانگوں کو رکھ کے سر پہ وہ سب کا بھاگ جانا

وہ ساتھ لڑکیوں کے کالج کا گیٹ کُھلنا

جنہیں دیکھ کر دلوں کا اک پل بہک سا جانا

Tuesday, 28 February 2023

کوئی جب پھول گلشن میں بنا پہچان لیتا ہے

 سانحۂ پشاور

شہدائے مکتب کے نام


کوئی جب پھول گلشن میں بنا پہچان لیتا ہے

نہ جانے کیوں بشر اس پر نگاہیں تان لیتا ہے

وہ جس نے شاخِ نازک پہ مزے لُوٹے صباؤں کے

نہیں ملتی اسے شبنم، نہ وہ گُلدان لیتا ہے

جو اس گلشن کا حصہ ہے، وہی غیروں کے کہنے پر

اپنے ہاتھ ہی سے کر چمن ویران لیتا ہے

Monday, 27 February 2023

ہلاکو خانوں کی بستیوں میں غریب پڑھ کے پڑھا کے دیکھے

 جاگیردانہ معاشرہ اور غریب


ہلاکو خانوں کی بستیوں میں غریب پڑھ کے پڑھا کے دیکھے

یہ لعلِ مُفلس ہر ایک جذبے کی کرچیاں بھی اٹھا کے دیکھے

امیرِ شہرِ ستم غریبوں کا اس طرح دست و پا بنا ہے

کہ خاندانی غلامی والی کوئی تو رسمیں مٹا کے دیکھے

یہ چاہتے ہیں سفید ریشم اِنہیں کا ملبوس ہو جہاں میں

غریب لیکن نہ عید کے دن بھی کوئی خوشبو لگا کے دیکھے

Sunday, 26 February 2023

جدید طالب علم یہ بوجھ کئی کتابوں کا پشت پہ اٹھاتے ہیں

 جدید طالب علم 


یہ بوجھ کئی کتابوں کا پشت پہ اٹھاتے ہیں

یہ صرف اپنے پرچے پہ حاشیے لگاتے ہیں

یہ دوسروں کے پیپر پہ کیمرے لگاتے ہیں 

یا پھر سوالنامے کو دیکھتے ہی جاتے ہیں

ہم ایسے طالب علموں کی داستاں سناتے ہیں

Monday, 7 December 2020

حسینہ تم ریاضی ہو

 حسینہ تم ریاضی ہو


وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھا دو نا

یہ سیٹوں کی تقاطع اور یونین کچھ بتا دو نا

یہ قالب اور الجبرا یہ کیسے لاگ لیتے ہو

جمع تفریق اور تقسیم ضربیں کیسے دیتے ہو

کسی طرح مجھے بھی اُمِ سائنس سے ملا دو نا

وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھا دو نا