کالج کے نام
آتا ہے یاد اب تک کالج کا وہ زمانا
تھی آٹھ کی وہ ٹائمنگ اور روز لیٹ آنا
اک پیریڈ تھا انگلش کہ ٹیچر سے پہلے پہلے
ٹانگوں کو رکھ کے سر پہ وہ سب کا بھاگ جانا
وہ ساتھ لڑکیوں کے کالج کا گیٹ کُھلنا
جنہیں دیکھ کر دلوں کا اک پل بہک سا جانا
کالج کے نام
آتا ہے یاد اب تک کالج کا وہ زمانا
تھی آٹھ کی وہ ٹائمنگ اور روز لیٹ آنا
اک پیریڈ تھا انگلش کہ ٹیچر سے پہلے پہلے
ٹانگوں کو رکھ کے سر پہ وہ سب کا بھاگ جانا
وہ ساتھ لڑکیوں کے کالج کا گیٹ کُھلنا
جنہیں دیکھ کر دلوں کا اک پل بہک سا جانا
سانحۂ پشاور
شہدائے مکتب کے نام
کوئی جب پھول گلشن میں بنا پہچان لیتا ہے
نہ جانے کیوں بشر اس پر نگاہیں تان لیتا ہے
وہ جس نے شاخِ نازک پہ مزے لُوٹے صباؤں کے
نہیں ملتی اسے شبنم، نہ وہ گُلدان لیتا ہے
جو اس گلشن کا حصہ ہے، وہی غیروں کے کہنے پر
اپنے ہاتھ ہی سے کر چمن ویران لیتا ہے
جاگیردانہ معاشرہ اور غریب
ہلاکو خانوں کی بستیوں میں غریب پڑھ کے پڑھا کے دیکھے
یہ لعلِ مُفلس ہر ایک جذبے کی کرچیاں بھی اٹھا کے دیکھے
امیرِ شہرِ ستم غریبوں کا اس طرح دست و پا بنا ہے
کہ خاندانی غلامی والی کوئی تو رسمیں مٹا کے دیکھے
یہ چاہتے ہیں سفید ریشم اِنہیں کا ملبوس ہو جہاں میں
غریب لیکن نہ عید کے دن بھی کوئی خوشبو لگا کے دیکھے
جدید طالب علم
یہ بوجھ کئی کتابوں کا پشت پہ اٹھاتے ہیں
یہ صرف اپنے پرچے پہ حاشیے لگاتے ہیں
یہ دوسروں کے پیپر پہ کیمرے لگاتے ہیں
یا پھر سوالنامے کو دیکھتے ہی جاتے ہیں
ہم ایسے طالب علموں کی داستاں سناتے ہیں
حسینہ تم ریاضی ہو
وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھا دو نا
یہ سیٹوں کی تقاطع اور یونین کچھ بتا دو نا
یہ قالب اور الجبرا یہ کیسے لاگ لیتے ہو
جمع تفریق اور تقسیم ضربیں کیسے دیتے ہو
کسی طرح مجھے بھی اُمِ سائنس سے ملا دو نا
وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھا دو نا