Showing posts with label بلدیو راج. Show all posts
Showing posts with label بلدیو راج. Show all posts

Sunday, 18 February 2024

کوئی پردہ میان عشق حائل ہو نہیں سکتا

 کوئی پردہ میانِ عشق حائل ہو نہیں سکتا

یہ حد ہے تو بھی اب مدِ مقابل ہو نہیں سکتا

تِرا عہدِ محبت ٹُوٹ کر عہدِ محبت ہے

مگر دل ٹوٹ جاتا ہے تو پھر دل ہو نہیں سکتا

محبت میں پرستش کا مقام اونچا سہی، لیکن

یہ غم انسان کی فطرت میں شامل ہو نہیں سکتا

Wednesday, 14 February 2024

میں جی رہا ہوں تیرا سہارا لیے بغیر

 میں جی رہا ہوں تیرا سہارا لیے بغیر

یہ زہر پی رہا ہوں گوارا کیے بغیر

بکتا نہ کاش عشق کی قیمت لیے بغیر

میں ان کا ہو گیا انہیں اپنا کیے بغیر

واقف تو ہوں وفا کے نتیجے سے ہم نشیں

بنتی نہیں ہے ان پہ بھروسا کیے بغیر

Monday, 29 January 2024

اب مری نگاہوں میں اوج ہے نہ پستی ہے

 اب مِری نگاہوں میں اوج ہے نہ پستی ہے

ایک سیل مدہوشی،۔ اک ہجوم مستی ہے

اے نگاہِ نامحرم عشق کی وہ بستی ہے

جس قدر اُجڑتی ہے اس قدر ہی بستی ہے

عاشقی و محبوبی آئینے کے دو رُخ ہیں

حُسن ایک بادہ ہے، عشق ایک مستی ہے

Sunday, 16 October 2022

مرے سکون کی دنیا میں اضطرار نہیں

 مِرے سکون کی دنیا میں اضطرار نہیں 

نہیں، نہیں، مجھے اب تیرا انتظار نہیں 

وہ بے وفائی کے قائل میں جاں نثاری کا 

کسی کو اپنی طبیعت پہ اختیار نہیں 

سمجھ سکے کوئی کیا میرے ظرف عالی کو 

پیے ہیں مے کدے لیکن ذرا خمار نہیں 

Tuesday, 20 April 2021

آج ہے ایثار کا جذبہ جو پروانوں کے پاس

آج ہے ایثار کا جذبہ جو پروانوں کے پاس

تھی کبھی یہ دولت بیدار انسانوں کے پاس

عقل ہے اک آستیں کا سانپ فرزانوں کے پاس

بے خودی کتنی بڑی دولت ہے دیوانوں کے پاس

کس کی ہے دنیا یہ آخر، صاحب خانہ ہے کون

میزباں دیکھا نہیں کوئی بھی مہمانوں کے پاس