کوئی پردہ میانِ عشق حائل ہو نہیں سکتا
یہ حد ہے تو بھی اب مدِ مقابل ہو نہیں سکتا
تِرا عہدِ محبت ٹُوٹ کر عہدِ محبت ہے
مگر دل ٹوٹ جاتا ہے تو پھر دل ہو نہیں سکتا
محبت میں پرستش کا مقام اونچا سہی، لیکن
یہ غم انسان کی فطرت میں شامل ہو نہیں سکتا
کوئی پردہ میانِ عشق حائل ہو نہیں سکتا
یہ حد ہے تو بھی اب مدِ مقابل ہو نہیں سکتا
تِرا عہدِ محبت ٹُوٹ کر عہدِ محبت ہے
مگر دل ٹوٹ جاتا ہے تو پھر دل ہو نہیں سکتا
محبت میں پرستش کا مقام اونچا سہی، لیکن
یہ غم انسان کی فطرت میں شامل ہو نہیں سکتا
میں جی رہا ہوں تیرا سہارا لیے بغیر
یہ زہر پی رہا ہوں گوارا کیے بغیر
بکتا نہ کاش عشق کی قیمت لیے بغیر
میں ان کا ہو گیا انہیں اپنا کیے بغیر
واقف تو ہوں وفا کے نتیجے سے ہم نشیں
بنتی نہیں ہے ان پہ بھروسا کیے بغیر
اب مِری نگاہوں میں اوج ہے نہ پستی ہے
ایک سیل مدہوشی،۔ اک ہجوم مستی ہے
اے نگاہِ نامحرم عشق کی وہ بستی ہے
جس قدر اُجڑتی ہے اس قدر ہی بستی ہے
عاشقی و محبوبی آئینے کے دو رُخ ہیں
حُسن ایک بادہ ہے، عشق ایک مستی ہے
مِرے سکون کی دنیا میں اضطرار نہیں
نہیں، نہیں، مجھے اب تیرا انتظار نہیں
وہ بے وفائی کے قائل میں جاں نثاری کا
کسی کو اپنی طبیعت پہ اختیار نہیں
سمجھ سکے کوئی کیا میرے ظرف عالی کو
پیے ہیں مے کدے لیکن ذرا خمار نہیں
آج ہے ایثار کا جذبہ جو پروانوں کے پاس
تھی کبھی یہ دولت بیدار انسانوں کے پاس
عقل ہے اک آستیں کا سانپ فرزانوں کے پاس
بے خودی کتنی بڑی دولت ہے دیوانوں کے پاس
کس کی ہے دنیا یہ آخر، صاحب خانہ ہے کون
میزباں دیکھا نہیں کوئی بھی مہمانوں کے پاس