Tuesday, 20 April 2021

آج ہے ایثار کا جذبہ جو پروانوں کے پاس

آج ہے ایثار کا جذبہ جو پروانوں کے پاس

تھی کبھی یہ دولت بیدار انسانوں کے پاس

عقل ہے اک آستیں کا سانپ فرزانوں کے پاس

بے خودی کتنی بڑی دولت ہے دیوانوں کے پاس

کس کی ہے دنیا یہ آخر، صاحب خانہ ہے کون

میزباں دیکھا نہیں کوئی بھی مہمانوں کے پاس

عظمت دیوانگی کا شور فرزانوں میں ہے

ہے غنیمت یہ بھی رہ جائے جو دیوانوں کے پاس

شمع روشن ہو گئی، آ جاؤ جلنے کے لیے

یہ خبر جاتا ہے لے کر کون پروانوں کے پاس

تم نہ گر آتے تو کھنچ جاتے صنم خانے وہیں

تم نے خود توہین کی آ کر صنم خانوں کے پاس

نا خدا کشتی کے رخ کو موڑ لنگر کاٹ دے

مجھ کو ساحل سا نظر آتا ہے طوفانوں کے پاس

دیکھیں اب بیگانے کرتے ہیں اشارہ کس طرف

مجھ کو اپنوں نے تو پہنچایا ہے بیگانوں کے پاس

راج جانے کس طرح کرتے ہیں سجدے برہمن

میں تو بن جاتا ہوں بت جا کر صنم خانوں کے پاس


بلدیو راج​

No comments:

Post a Comment