آج اِن ادھ کھلی آنکھوں کو ذرا موند نہ لیں
جس طرح قبر میں ہر لاش تھکن کاٹتی ہے
چوٹ ایسی ہے کہ نوحہ بھی نہیں بن سکتی
زخم ایسا ہے کہ ہم سے نہ دکھایا جائے
کاش کر سکتے ہم اظہارِ اذیت لیکن
حال افسانہ نہیں ہے کہ سنایا جائے
آج اِن ادھ کھلی آنکھوں کو ذرا موند نہ لیں
جس طرح قبر میں ہر لاش تھکن کاٹتی ہے
چوٹ ایسی ہے کہ نوحہ بھی نہیں بن سکتی
زخم ایسا ہے کہ ہم سے نہ دکھایا جائے
کاش کر سکتے ہم اظہارِ اذیت لیکن
حال افسانہ نہیں ہے کہ سنایا جائے
آج ہم رو نہ پڑیں آج بہت زرد ہے دل
کھول دیں تنگ گریبان کا ہر ایک بٹن
پھینک دیں عشق کے دعوؤں کے سبھی بوجھ یہیں
اور گر جائیں کسی سایۂ دیوار تلے
ایک بوسیدہ عمارت کے ستونوں کی طرح
خواب کب تک ہمیں کاندھے پہ اٹھا کر رکھیں
کب کسی کردار کی مرضی سے افسانہ بنا
میں تو عاشق بن گیا ہوں تُو بنا یا نہ بنا
کس طرح کوئی کرے ہجرت خود اپنے آپ سے
میں جو دیواروں میں آیا گھر ہی ویرانہ بنا
دو جہاں کا درد سہنے کو قیامت چاہیے
کتنا سمجھایا فرشتوں نے کہ دنیا نہ بنا
اب قیس کو وحشت مِری کیسے سمجھ آئے
اس نے کبھی لیلیٰ سے تو پتھر نہیں کھائے
راہوں میں چٹختے ہوئے پتوں کے نگر میں
کوئی نہیں جو مجھ سے مِری جان چھڑائے
ہاں تیری جدائی میں مِرے دل کے خلا کو
یہ ارض و سمٰوات بھی پُر کر نہیں پائے
سمتوں کے اعتبار نے دھوکہ دیا نہ ہو
یہ آسماں زمین کے نیچے پڑا نہ ہو
جی لگ رہا ہے آج تِری یاد کے بغیر
یہ بھی کسی رقیب کی ہی بد دعا نہ ہو
طعنے کو سن کے ہنس دیا ہے خوشدلی کے ساتھ
ہو سکتا ہے وہ آدمی دل کا برا نہ ہو
شجر کاری مہم
اگر میرے ہاتھوں سے لگائے ہوئے درخت
میرے حق میں دعا کرنے لگ جائیں
تو شاید فرشتے مجھے دوزخ سے پرے دُھتکار دیں
کاش بالوں کے سفید ہونے سے پہلے
سانپوں کی بجائے پرندوں سے دوستی کر لیتا
اب قیس کو وحشت مِری کیسے سمجھ آئے
اس نے کبھی لیلیٰ سے تو پتھر نہیں کھائے
راہوں میں چٹختے ہوئے پتوں کے نگر میں
کوئی نہیں جو مجھ سے مِری جان چھڑائے
ہاں تیری جدائی میں مِرے دل کے خلا کو
یہ ارض و سموٰات بھی پُر کر نہیں پائے
ترانۂ یوم تکبیر
کرنلوں کی بیویاں
ڈیلروں کی بیٹیاں
لیڈروں کی داشتائیں اور وڈیرے کی بہو
میں فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
ٹڈی دل ڈینگی کرونا اور دہشت گردیاں
بتاؤں کیسے ہوا ہے نصاب سارا غلط
بس ایک نقطہ غلط تھا حساب سارا غلط
تماشہ گر کی حقیقت نمائیوں پہ نہ جا
سوال سارا صحیح ہے جواب سارا غلط
یہ حکم چیخ رہا ہے کہ مجھے ہوش نہیں
شراب ٹھیک ہے لیکن کباب سارا غلط
حرام زادی
میں وہ حاملۂ خیال ہوں
جسے دردِ زہ میں پتہ چلے
کہ جو اس کے پیٹ میں تھی غزل
شکمِ جہنم ضبط میں
وہ جنم سے پہلے ہی مر گئی
سسی
پُنل اب لوٹنا کیسا؟
محبت خانزادے کے حرم میں گڑ گئی اب تو
میرے ہر خواب پہ مٹی کی چادر چڑھ گئی اب تو
میرے عشوے میرے غمزے ادائیں مر گئیں اب تو
صدائیں مر گئیں اب تو