Showing posts with label عمران فیروز. Show all posts
Showing posts with label عمران فیروز. Show all posts

Monday, 20 March 2023

آج ان ادھ کھلی آنکھوں کو ذرا موند نہ لیں

 آج اِن ادھ کھلی آنکھوں کو ذرا موند نہ لیں

جس طرح قبر میں ہر لاش تھکن کاٹتی ہے

چوٹ ایسی ہے کہ نوحہ بھی نہیں بن سکتی 

زخم ایسا ہے کہ ہم سے نہ دکھایا جائے

کاش کر سکتے ہم اظہارِ اذیت لیکن 

حال افسانہ نہیں ہے کہ سنایا جائے

Thursday, 2 March 2023

آج ہم رو نہ پڑیں آج بہت زرد ہے دل

 آج ہم رو نہ پڑیں آج بہت زرد ہے دل

کھول دیں تنگ گریبان کا ہر ایک بٹن 

پھینک دیں عشق کے دعوؤں کے سبھی بوجھ یہیں 

اور گر جائیں کسی سایۂ دیوار تلے 

ایک بوسیدہ عمارت کے ستونوں کی طرح 

خواب کب تک ہمیں کاندھے پہ اٹھا کر رکھیں

Friday, 9 December 2022

کب کسی کردار کی مرضی سے افسانہ بنا

 کب کسی کردار کی مرضی سے افسانہ بنا

میں تو عاشق بن گیا ہوں تُو بنا یا نہ بنا

کس طرح کوئی کرے ہجرت خود اپنے آپ سے

میں جو دیواروں میں آیا گھر ہی ویرانہ بنا

دو جہاں کا درد سہنے کو قیامت چاہیے

کتنا سمجھایا فرشتوں نے کہ دنیا نہ بنا

Thursday, 13 October 2022

اب قیس کو وحشت مری کیسے سمجھ آئے

 اب قیس کو وحشت مِری کیسے سمجھ آئے

اس نے کبھی لیلیٰ سے تو پتھر نہیں کھائے

راہوں میں چٹختے ہوئے پتوں کے نگر میں

کوئی نہیں جو مجھ سے مِری جان چھڑائے

ہاں تیری جدائی میں مِرے دل کے خلا کو

یہ ارض و سمٰوات بھی پُر کر نہیں پائے

Friday, 11 February 2022

سمتوں کے اعتبار نے دھوکہ دیا نہ ہو

 سمتوں کے اعتبار نے دھوکہ دیا نہ ہو

یہ آسماں زمین کے نیچے پڑا نہ ہو

جی لگ رہا ہے آج تِری یاد کے بغیر

یہ بھی کسی رقیب کی ہی بد دعا نہ ہو

طعنے کو سن کے ہنس دیا ہے خوشدلی کے ساتھ

ہو سکتا ہے وہ آدمی دل کا برا نہ ہو

Sunday, 21 November 2021

مجھے لوگ درخت کہیں انسان کہے نہ کوئی

 شجر کاری مہم


اگر میرے ہاتھوں سے لگائے ہوئے درخت

میرے حق میں دعا کرنے لگ جائیں

تو شاید فرشتے مجھے دوزخ سے پرے دُھتکار دیں

کاش بالوں کے سفید ہونے سے پہلے

سانپوں کی بجائے پرندوں سے دوستی کر لیتا

Friday, 5 November 2021

اب قیس کو وحشت مری کیسے سمجھ آئے

 اب قیس کو وحشت مِری کیسے سمجھ آئے

اس نے کبھی لیلیٰ سے تو پتھر نہیں کھائے

راہوں میں چٹختے ہوئے پتوں کے نگر میں

کوئی نہیں جو مجھ سے مِری جان چھڑائے

ہاں تیری جدائی میں مِرے دل کے خلا کو

یہ ارض و سموٰات بھی پُر کر نہیں پائے

Monday, 25 October 2021

میں فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو

 ترانۂ یوم تکبیر 


کرنلوں کی بیویاں

ڈیلروں کی بیٹیاں

لیڈروں کی داشتائیں اور وڈیرے کی بہو

میں فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو

ٹڈی دل ڈینگی کرونا اور دہشت گردیاں

Saturday, 23 October 2021

بتاؤں کیسے ہوا ہے نصاب سارا غلط

 بتاؤں کیسے ہوا ہے نصاب سارا غلط

بس ایک نقطہ غلط تھا حساب سارا غلط

تماشہ گر کی حقیقت نمائیوں پہ نہ جا

سوال سارا صحیح ہے جواب سارا غلط

یہ حکم چیخ رہا ہے کہ مجھے ہوش نہیں

شراب ٹھیک ہے لیکن کباب سارا غلط

Saturday, 25 September 2021

وہ جو رہ گیا وہ جنون ہے

حرام زادی


میں وہ حاملۂ خیال ہوں

جسے دردِ زہ میں پتہ چلے

کہ جو اس کے پیٹ میں تھی غزل

شکمِ جہنم ضبط میں

وہ جنم سے پہلے ہی مر گئی

Saturday, 12 June 2021

سسی پنل اب لوٹنا کیسا

 سسی


پُنل اب لوٹنا کیسا؟

محبت خانزادے کے حرم میں گڑ گئی اب تو

میرے ہر خواب پہ مٹی کی چادر چڑھ گئی اب تو

میرے عشوے میرے غمزے ادائیں مر گئیں اب تو 

صدائیں مر گئیں اب تو