Thursday, 2 March 2023

آج ہم رو نہ پڑیں آج بہت زرد ہے دل

 آج ہم رو نہ پڑیں آج بہت زرد ہے دل

کھول دیں تنگ گریبان کا ہر ایک بٹن 

پھینک دیں عشق کے دعوؤں کے سبھی بوجھ یہیں 

اور گر جائیں کسی سایۂ دیوار تلے 

ایک بوسیدہ عمارت کے ستونوں کی طرح 

خواب کب تک ہمیں کاندھے پہ اٹھا کر رکھیں

رنگ کب تک کسی چہرے کو سجا کر رکھیں

پھول کب تک سبھی کانٹوں کو چھپا کر رکھیں

رات کو موت کا سایہ نہیں سونے دیتا 

دن دہکتے ہوئے سورج کی جلن کاٹتی ہے 

آج اِن ادھ کھلی آنکھوں کو ذرا موند نہ لیں

جس طرح قبر میں ہر لاش تھکن کاٹتی ہے 

چوٹ ایسی ہے کہ نوحہ بھی نہیں بن سکتی 

زخم ایسا ہے کہ ہم سے نہ دکھایا جائے 

کاش کر سکتے ہم اظہارِ اذیت، لیکن 

حال افسانہ نہیں ہے کہ سنایا جائے 

کیا ہوا کیسے ہوا آج نہ پوچھو ہم سے 

آج سینے پہ دھری ہے کسی افسوس کی سل

کل کا وعدہ ہے کوئی بات کریں گے، مگر آج

آج ہم رو نہ پڑیں، آج بہت زرد ہے دل


عمران فیروز

No comments:

Post a Comment