تعلق
بہت ہی خوار کرتا ہے
بہت حساس ہونا بھی
ہمیں بس مار دیتا ہے
کسی کا خاص ہونا بھی
کبھی بھی ہم نہیں ہوتے
کسی کی سوچ کا محور
یہ خوش فہمی سی ہوتی ہے
جو دل کو شاد کرتی ہے
یہ دل آباد کرتی ہے
مگر جب راز کھلتا ہے
پتہ یہ ہم کو چلتا ہے
کہانی جو سنی تھی وہ
کہانی خوبصورت تھی
کتابِ زندگی کی تھی
بہت کردار تھے اس میں
میں ان سب کی ضرورت تھی
وہ رشتے سارے اپنے تھے
میں ان سب کی چاہت تھی
ملے تھے اس سفر میں جو
وہ سب کے سب مسافر تھے
چلے تھے ساتھ جب میرے
تو میرے دل میں خواہش تھی
کہ سب ہی ساتھ چلتے پر
مگر جب راستہ مشکل ہوا
میں محوِ حیرت تھی
کہ جو سب سنگ تھے میرے
کبھی غمخوار تھے میرے
وہ سب کے سب تھے بیگانے
میرے ہونے سے انجانے
جو لوگوں کا یہ دیکھا رنگ
تو پھر میں نے یہ جانا کہ
ہمیں بس مار دیتا ہے
بہت حساس ہونا بھی
تسنیم مرزا
No comments:
Post a Comment