عدو کی چھوڑیے دلدار کی نہیں سنتا
دل اپنے یارِ طرحدار کی نہ سنتا
کسی طرح نہیں رکھتا ہماری نبض پہ ہاتھ
عجب طبیب ہے بیمار کی نہیں سنتا
ہر ایک شاخ پہ کھلتے نہیں ہیں درد کے پھول
خدا ہر ایک عزادار کی نہیں سنتا
بنا دیا ہے مجھے اس ہجوم کا سردار
جو اپنے قافلہ سالار کی نہیں سنتا
شکیل جمالی
No comments:
Post a Comment