Wednesday, 1 March 2023

عدو کی چھوڑیے دلدار کی نہیں سنتا

 عدو کی چھوڑیے دلدار کی نہیں سنتا

دل اپنے یارِ طرحدار کی نہ سنتا

کسی طرح نہیں رکھتا ہماری نبض پہ ہاتھ

عجب طبیب ہے بیمار کی نہیں سنتا

ہر ایک شاخ پہ کھلتے نہیں ہیں درد کے پھول

خدا ہر ایک عزادار کی نہیں سنتا

بنا دیا ہے مجھے اس ہجوم کا سردار

جو اپنے قافلہ سالار کی نہیں سنتا


شکیل جمالی

No comments:

Post a Comment