Showing posts with label عظیم انصاری. Show all posts
Showing posts with label عظیم انصاری. Show all posts

Saturday, 15 April 2023

کیوں کریں ہم آشکار غم جو اپنے دل میں ہے

 کیوں کریں ہم آشکار غم جو اپنے دل میں ہے

ہے مگر یہ سچ ہمارا دل بڑی مشکل میں ہے

چل رہا ہے راستے میں کارواں کے ساتھ وہ

دل مگر اس کا مسلسل دورئ منزل میں ہے

ایک دن لہریں بھی اس کو ساتھ اپنے لے گئیں

کہہ رہا تھا جو کہ اکثر عافیت ساحل میں ہے

Tuesday, 8 March 2022

عشق سے اس قدر آشنا کون ہے

 عشق سے اس قدر آشنا کون ہے

ایک میں ہوں مگر دوسرا کون ہے

سوچتے ہیں سبھی آج خود کے لیے

اب کسی کے لیے سوچتا کون ہے

سچ کی راحت کو سب مانتے ہیں مگر

سچ بتاؤ کہ سچ بولتا کون ہے؟

Friday, 18 February 2022

دنیا میں ہے جو دھوم تو طیبہ نگر کی ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کیا پوچھتے ہو مجھ سے کہ نیت کدھر کی ہے

دنیا میں ہے جو دھوم تو طیبہ نگر کی ہے

روزِ جزا میں پائے یہ شاہِ اُممﷺ کی دید

یہ آرزو ازل سے ہماری نظر کی ہے

رکھتے ہیں آسرا سبھی جانے کی جس جگہ

خواہش ہمارے دل میں اسی پاک در کی ہے

Tuesday, 15 February 2022

دنیا چمک گئی ہے محمد کے نور سے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


دنیا چمک گئی ہے محمدﷺ کے نور سے

ہر سمت روشنی ہے محمدﷺ کے نور سے

دل میں بسالیا ہے انھیں میں نے اے ندیم

حسرت میں تازگی ہے محمدﷺ کے نور سے

اس دل کی تیرگی کبھی مٹ پائے گی کہاں

جو دل کہ اجنبی ہے محمدﷺ کے نور سے

ہر سمت ہے بہار محمد کے نام سے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہر سمت ہے بہار محمدﷺ کے نام سے

ہے زیست پر وقار محمدﷺ کے نام سے

ان پر درودِ پاک بھلا کیوں نہ میں پڑھوں

ملتا ہے جو قرار محمدﷺ کے نام سے

دنیائے رنگا رنگ سے پھر اس کو کیا غرض

ہوتا ہے جس کو پیار محمدﷺ کے نام سے

Monday, 14 February 2022

وہ جب بھی اٹھ کے مری انجمن سے جاتا ہے

 وہ جب بھی اٹھ کے مِری انجمن سے جاتا ہے

تو میری روح کا پنچھی بدن سے جاتا ہے

اثر تو کرتا ہے اچھا خراب جو بھی ہو

وہ لفظ جو بھی نکل کر دہن سے جاتا ہے

وطن کی یاد سدا اس کے ساتھ رہتی ہے

دیارِ غیر میں جو بھی وطن سے جاتا ہے

Monday, 4 January 2021

مدتوں بعد جنوں اس کا اتر تو آیا

 مدتوں بعد جنوں اس کا اتر تو آیا

مدتوں بعد سہی لوٹ کے گھر تو آیا

مدتوں بعد درِ دل پہ ہوئی پھر دستک

مدتوں بعد کوئی لے کے خبر تو آیا

مدتوں بعد تبسم میں چھپایا غم کو

مدتوں بعد مجھے کوئی ہنر تو آیا