کیوں کریں ہم آشکار غم جو اپنے دل میں ہے
ہے مگر یہ سچ ہمارا دل بڑی مشکل میں ہے
چل رہا ہے راستے میں کارواں کے ساتھ وہ
دل مگر اس کا مسلسل دورئ منزل میں ہے
ایک دن لہریں بھی اس کو ساتھ اپنے لے گئیں
کہہ رہا تھا جو کہ اکثر عافیت ساحل میں ہے
کیوں کریں ہم آشکار غم جو اپنے دل میں ہے
ہے مگر یہ سچ ہمارا دل بڑی مشکل میں ہے
چل رہا ہے راستے میں کارواں کے ساتھ وہ
دل مگر اس کا مسلسل دورئ منزل میں ہے
ایک دن لہریں بھی اس کو ساتھ اپنے لے گئیں
کہہ رہا تھا جو کہ اکثر عافیت ساحل میں ہے
عشق سے اس قدر آشنا کون ہے
ایک میں ہوں مگر دوسرا کون ہے
سوچتے ہیں سبھی آج خود کے لیے
اب کسی کے لیے سوچتا کون ہے
سچ کی راحت کو سب مانتے ہیں مگر
سچ بتاؤ کہ سچ بولتا کون ہے؟
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کیا پوچھتے ہو مجھ سے کہ نیت کدھر کی ہے
دنیا میں ہے جو دھوم تو طیبہ نگر کی ہے
روزِ جزا میں پائے یہ شاہِ اُممﷺ کی دید
یہ آرزو ازل سے ہماری نظر کی ہے
رکھتے ہیں آسرا سبھی جانے کی جس جگہ
خواہش ہمارے دل میں اسی پاک در کی ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دنیا چمک گئی ہے محمدﷺ کے نور سے
ہر سمت روشنی ہے محمدﷺ کے نور سے
دل میں بسالیا ہے انھیں میں نے اے ندیم
حسرت میں تازگی ہے محمدﷺ کے نور سے
اس دل کی تیرگی کبھی مٹ پائے گی کہاں
جو دل کہ اجنبی ہے محمدﷺ کے نور سے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ہر سمت ہے بہار محمدﷺ کے نام سے
ہے زیست پر وقار محمدﷺ کے نام سے
ان پر درودِ پاک بھلا کیوں نہ میں پڑھوں
ملتا ہے جو قرار محمدﷺ کے نام سے
دنیائے رنگا رنگ سے پھر اس کو کیا غرض
ہوتا ہے جس کو پیار محمدﷺ کے نام سے
وہ جب بھی اٹھ کے مِری انجمن سے جاتا ہے
تو میری روح کا پنچھی بدن سے جاتا ہے
اثر تو کرتا ہے اچھا خراب جو بھی ہو
وہ لفظ جو بھی نکل کر دہن سے جاتا ہے
وطن کی یاد سدا اس کے ساتھ رہتی ہے
دیارِ غیر میں جو بھی وطن سے جاتا ہے
مدتوں بعد جنوں اس کا اتر تو آیا
مدتوں بعد سہی لوٹ کے گھر تو آیا
مدتوں بعد درِ دل پہ ہوئی پھر دستک
مدتوں بعد کوئی لے کے خبر تو آیا
مدتوں بعد تبسم میں چھپایا غم کو
مدتوں بعد مجھے کوئی ہنر تو آیا