وہ جب بھی اٹھ کے مِری انجمن سے جاتا ہے
تو میری روح کا پنچھی بدن سے جاتا ہے
اثر تو کرتا ہے اچھا خراب جو بھی ہو
وہ لفظ جو بھی نکل کر دہن سے جاتا ہے
وطن کی یاد سدا اس کے ساتھ رہتی ہے
دیارِ غیر میں جو بھی وطن سے جاتا ہے
بڑا حسین وہ لگتا ہے اس گھڑی مجھ کو
کبھی کبھار جو دیوانہ پن سے جاتا ہے
نجانے کیوں مجھے ملتا نہیں سکوں پل بھر
اداس ہو کے وہ جب بھی چمن سے جاتا ہے
نگاہِ ناز کے مارے ہوئے ہیں چاروں طرف
یہ تیر عاشقوں کے دل میں سن سے جاتا ہے
وہی ہے جذبۂ ایثار میں چمک، لیکن
یہی وہ سکہ ہے جو اب چلن سے جاتا ہے
کبھی بھی اس کی طرحداریاں نہ کم ہوں گی
غزل کا رنگ کہاں بانکپن سے جاتا ہے
عجیب شخص ہے اس کو پتا نہیں شاید
خزاں کا رنگ نئے پیرہن سے جاتا ہے
ہزار سست سہی کام میں وہ اپنے عظیم
کسی سے ملنے وہ لیکن جتن سے جاتا ہے
عظیم انصاری
No comments:
Post a Comment