اظہار محبت
تم اتنے حسیں ہو تم ایسے حسیں ہو
حقیقت میں تم تو ثریا جبیں ہو
میں کہہ دوں اگر کچھ تمہیں بھی یقیں ہو
تمہیں پیار کرنے کو جی چاہتا ہے
لبوں پر ہنسی ہے گلابی گلابی
نگاہوں کی جنبش شرابی شرابی
اظہار محبت
تم اتنے حسیں ہو تم ایسے حسیں ہو
حقیقت میں تم تو ثریا جبیں ہو
میں کہہ دوں اگر کچھ تمہیں بھی یقیں ہو
تمہیں پیار کرنے کو جی چاہتا ہے
لبوں پر ہنسی ہے گلابی گلابی
نگاہوں کی جنبش شرابی شرابی
نوجوانی میں عجب دل کی لگی ہوتی ہے
غم کے سہنے میں بھی انساں کو خوشی ہوتی ہے
پیار جب پیار کی منزل پہ پہنچ جاتا ہے
ہنستے چہروں کے بھی آنکھوں میں نمی ہوتی ہے
پاس رہتے ہیں تو دل محو طرب رہتا ہے
دور ہوتے ہیں تو محسوس کمی ہوتی ہے
پیش آنے لگے ہیں نفرت سے
بھر گیا ان کا دل محبت سے
فائدہ یہ ہے تیری قربت سے
خوب کٹتا ہے وقت راحت سے
کام بنتے نہیں ہیں نفرت سے
کام چلتے ہیں سب محبت سے
اگر بدلا کبھی رخ بے رخی کا
تو آئے گا مزہ کچھ زندگی کا
مجھے برباد کر کے ہنس رہے ہو
لیا ہے تم نے یہ بدلا کبھی کا
اسی امید پر غم سہ رہا ہوں
کبھی تو آئے گا موقع خوشی کا
تیری دنیا میں تو نفرت کا جہاں بستا ہے
میری دنیا میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
تیرے دل کو تو ہزاروں کی لگن رہتی ہے
میرے دل میں تِری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں
تیری عادت میں عداوت کی فراوانی ہے
میری عادت میں مروت کے سوا کچھ بھی نہیں
بغیر اپنے کسی مطلب کے الفت کون کرتا ہے
یہ دنیا ہے یہاں بے لوث چاہت کون کرتا ہے
گوارا لطف فرمانی کی زحمت کون کرتا ہے
محبت کرنے والے سے محبت کون کرتا ہے
تمہیں زعم محبت ہے مجھے بھی ہے مگر اے جاں
تم اپنی دل سے ہی پوچھو محبت کون کرتا ہے