تیری دنیا میں تو نفرت کا جہاں بستا ہے
میری دنیا میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں
تیرے دل کو تو ہزاروں کی لگن رہتی ہے
میرے دل میں تِری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں
تیری عادت میں عداوت کی فراوانی ہے
میری عادت میں مروت کے سوا کچھ بھی نہیں
تیرے عالم میں تخیل ہے حسیں باتوں کا
میرے عالم میں تو حیرت کے سوا کچھ بھی نہیں
حسن میں تیرے ہے اک نور کی دنیا رقصاں
اور مِرے عشق میں ظلمت کے سوا کچھ بھی نہیں
تیری قسمت میں ہیں تحریر طرب گوں لمحے
میری قسمت میں مصیبت کے سوا کچھ بھی نہیں
تیری فطرت تو ہے باتوں سے بتانا دل کا
میری فطرت میں صداقت کے سوا کچھ بھی نہیں
سچ ہے افضل کو تِرے عشق نے برباد کیا
مرتبہ اس کا بھی تھا ورنہ بلند و بالا
افضل پشاوری
افضل پیشاوری
No comments:
Post a Comment