آتا ہے نظر انجام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے
باقی ہے خدا کا نام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے
خورشید کو جام سے شرمائیں گے شام کو تیرا وعدہ تھا
ایفائے عہدِ شام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے
ہم کتنی پینے والے ہیں، تم کتنی پلانے والے ہو
یہ راز ہے طشت از بام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے