Showing posts with label ذوالفقار بخاری. Show all posts
Showing posts with label ذوالفقار بخاری. Show all posts

Wednesday, 20 October 2021

آتا ہے نظر انجام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

 آتا ہے نظر انجام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

باقی ہے خدا کا نام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

خورشید کو جام سے شرمائیں گے شام کو تیرا وعدہ تھا

ایفائے عہدِ شام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

ہم کتنی پینے والے ہیں، تم کتنی پلانے والے ہو

یہ راز ہے طشت از بام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

Saturday, 2 October 2021

گم کردہ راہ خاک بسر ہوں ذرا ٹھہر

 گم کردہ راہ خاک بسر ہوں ذرا ٹھہر

اے تیز رو غبارِ سفر ہوں ذرا ٹھہر

رقصِ نمود یک دو نفس اور بھی سہی

دوشِ ہوا پہ مثلِ شرر ہوں ذرا ٹھہر

اپنا خرام تیز نہ کر اے نسیمِ زیست

بجھنے کو ہوں چراغِ سحر ہوں ذرا ٹھہر

Thursday, 30 September 2021

بسائی میں نے جو قلب حزیں میں

 بسائی میں نے جو قلبِ حزِیں میں

وہ دنیا کام آئی کارِ دِیں میں

وہی ہے اصل میں جانِ تمنا

جو حسرت ہے نگاہ واپسِیں میں

تِرے شوقِ سراپا کی کشش سے

سمٹ آیا ہوں میں اپنی جبیں میں

Wednesday, 29 September 2021

وہ کہتے ہیں کہ ہم کو اس کے مرنے پر تعجب ہے

 وہ کہتے ہیں کہ ہم کو اس کے مرنے پر تعجب ہے

میں کہتا ہوں کہ میں زندہ رہا کیوں کر، تعجب ہے 

مِری دو چار امیدیں بر آئی تھیں جوانی میں 

مِرے اللہ! اتنی بات پر محشر، تعجب ہے

ہمیں ہیں عشق کو جو شغلِ بیکاری سمجھتے ہیں

ہماری ہی سمجھ پر پڑ گئے پتھر، تعجب ہے

Thursday, 5 August 2021

راس آنے لگی تھی تنہائی

 راس آنے لگی تھی تنہائی

یادِ محبوب! تُو کہاں آئی

پھر اٹھاتا ہوں منتِ طفلاں

پھر ہے سودائے ننگِ رُسوائی

پھر وہی کاروبارِ راز و نیاز

پھر وہی شوقِ خلوت آرائی

Friday, 23 April 2021

زندگی آزار تھی آزار ہے تیرے بغیر

 زندگی آزار تھی، آزار ہے تیرے بغیر

کارِ سہلِ مرگ بھی دُشوار ہے تیرے بغیر

یوں قدم آ کر رکے جیسے کبھی چلتے نہ تھے

عمر فانی، وقت بے رفتار ہے تیرے بغیر

کیا بتاؤں کس طرح اب کٹ رہی ہے زندگی

میری ہر ہر سانس اک تلوار ہے تیرے بغیر