Wednesday, 20 October 2021

آتا ہے نظر انجام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

 آتا ہے نظر انجام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

باقی ہے خدا کا نام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

خورشید کو جام سے شرمائیں گے شام کو تیرا وعدہ تھا

ایفائے عہدِ شام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

ہم کتنی پینے والے ہیں، تم کتنی پلانے والے ہو

یہ راز ہے طشت از بام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

اے رندو ہاتھ پہ ہاتھ دھرے کیا ساقی کا منہ تکتے ہو

محفل میں مچے کہرام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

یہ راہ پر آ ہی جائے گا تو زاہد سے مایوس نہ ہو

اٹھ لے کے خدا کا نام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

یہ برہم ہونے والی محفل یوں بھی برہم ہو جاتی

ہم کہہ کے ہوئے بدنام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے

اب کوئی نہیں سناٹا ہے تاروں کی آنکھیں جھپکی ہیں

چل ساتھ مِرے دو گام کہ ساقی رات گزرنے والی ہے


زیڈ اے بخاری 

ذوالفقار علی بخاری

No comments:

Post a Comment