Showing posts with label نعیم رضا. Show all posts
Showing posts with label نعیم رضا. Show all posts

Tuesday, 29 March 2022

دیوار اٹھانے کو ہیں ماں جائے ہمارے

 دیوار اٹھانے کو ہیں ماں جائے ہمارے

اورمصلحت اندیش ہیں ہم سائے ہمارے

ہر دشت کو انکار ہے وحشت سے ہماری

ہر اشک نے بس ہونٹ ہی ترسائے ہمارے

ہم کھینچ کے رکھتے ہیں طنابیں کہ بدن میں

آئے نہ کوئی جھول بنا لائے ہمارے

Tuesday, 21 September 2021

شکستہ گھر ہے

 لا موجود


شکستہ گھر ہے

دہکتے آنگن میں سن رسیدہ شجر کے پتے

بکھر چکے ہیں

پرندگاں جو یہاں چہکنے میں محو رہتے تھے

خامشی کی سِلوں کے نیچے دبے پڑے ہیں

Wednesday, 15 September 2021

فنا کا مرثیہ لکھنا تھا لیکن میں نے ہنستی مسکراتی نظم لکھی ہے

 مہلت


سرِ مژگاں ابد آثار امیدوں کا سیلِ خوش نگاہی

بہہ رہا ہے

اور میں مہلت کی خواہش کے کٹاؤ سے ذرا آگے

ارادوں کے حقیقی بانجھ پن کی گونج سنتا ہوں

یہیں تم تھے

یہیں میں تھا

Tuesday, 14 September 2021

برہنہ خاک کے سارے مناظر

 احتمال


برہنہ خاک کے سارے مناظر

فلک کی سرپرستی میں

جہانِ دلنشیں مہکا رہے ہیں

ہمیں بہلا رہے ہیں

مگر احساس غالب ہے

کسی خلجان کا پرتو

جہاں پسماندگاں تفریح سے تسکین پاتے ہوں

 ابہام


جہاں پسماندگاں تفریح سے تسکین پاتے ہوں

جہاں بیدار آنکھوں سے سیاہی پھوٹ بہتی ہو

وہاں پُرکھوں کی دانائی

ہرے شبدوں میں ڈھل کر لَو نہیں دیتی

اگر تم ٹاٹ کے پردے میں

ریشم کو رفو کرنے میں ماہر ہو

Wednesday, 16 December 2020

اسی لیے مرے رستے میں گھر نہیں آیا

 اسی لیے مرے رستے میں گھر نہیں آیا

ترے دیار سے میں لوٹ کر نہیں آیا

دکھاؤں دل میں کسے ایسے شہر میں کہ جہاں

اداس چہرہ کسی کو نظر نہیں آیا

مرے نصیب میں زندہ دلی نہیں لکھی

میں بے ہنر ہی رہا  یہ ہنر نہیں آیا

جو نہ ہوتا تھا کام ہو گیا ہے

 جو نہ ہوتا تھا کام ہو گیا ہے

ہاں مرا انہدام ہو گیا ہے

یہ خبر اڑ رہی ہے چاروں طرف

موت کا انتظام ہو گیا ہے

نظر انداز کرنے والوں سے

رابطہ ہی تمام ہو گیا ہے