دیوار اٹھانے کو ہیں ماں جائے ہمارے
اورمصلحت اندیش ہیں ہم سائے ہمارے
ہر دشت کو انکار ہے وحشت سے ہماری
ہر اشک نے بس ہونٹ ہی ترسائے ہمارے
ہم کھینچ کے رکھتے ہیں طنابیں کہ بدن میں
آئے نہ کوئی جھول بنا لائے ہمارے
دیوار اٹھانے کو ہیں ماں جائے ہمارے
اورمصلحت اندیش ہیں ہم سائے ہمارے
ہر دشت کو انکار ہے وحشت سے ہماری
ہر اشک نے بس ہونٹ ہی ترسائے ہمارے
ہم کھینچ کے رکھتے ہیں طنابیں کہ بدن میں
آئے نہ کوئی جھول بنا لائے ہمارے
لا موجود
شکستہ گھر ہے
دہکتے آنگن میں سن رسیدہ شجر کے پتے
بکھر چکے ہیں
پرندگاں جو یہاں چہکنے میں محو رہتے تھے
خامشی کی سِلوں کے نیچے دبے پڑے ہیں
مہلت
سرِ مژگاں ابد آثار امیدوں کا سیلِ خوش نگاہی
بہہ رہا ہے
اور میں مہلت کی خواہش کے کٹاؤ سے ذرا آگے
ارادوں کے حقیقی بانجھ پن کی گونج سنتا ہوں
یہیں تم تھے
یہیں میں تھا
احتمال
برہنہ خاک کے سارے مناظر
فلک کی سرپرستی میں
جہانِ دلنشیں مہکا رہے ہیں
ہمیں بہلا رہے ہیں
مگر احساس غالب ہے
کسی خلجان کا پرتو
ابہام
جہاں پسماندگاں تفریح سے تسکین پاتے ہوں
جہاں بیدار آنکھوں سے سیاہی پھوٹ بہتی ہو
وہاں پُرکھوں کی دانائی
ہرے شبدوں میں ڈھل کر لَو نہیں دیتی
اگر تم ٹاٹ کے پردے میں
ریشم کو رفو کرنے میں ماہر ہو
اسی لیے مرے رستے میں گھر نہیں آیا
ترے دیار سے میں لوٹ کر نہیں آیا
دکھاؤں دل میں کسے ایسے شہر میں کہ جہاں
اداس چہرہ کسی کو نظر نہیں آیا
مرے نصیب میں زندہ دلی نہیں لکھی
میں بے ہنر ہی رہا یہ ہنر نہیں آیا
جو نہ ہوتا تھا کام ہو گیا ہے
ہاں مرا انہدام ہو گیا ہے
یہ خبر اڑ رہی ہے چاروں طرف
موت کا انتظام ہو گیا ہے
نظر انداز کرنے والوں سے
رابطہ ہی تمام ہو گیا ہے