سن کہا مان نہ مانے گا تو پچھتائے گا
پیار نادان کو مت دے کہ یہ مر جائے گا
روش عام سے ہُشیار کہ پچھتائے گا
وقت کو چھوڑ یہ پانی ہے گزر جائے گا
سچ کوئی فن تو نہیں ہے جو سکھایا جائے
جھوٹ سے کام لے سچ بولنا آ جائے گا
سن کہا مان نہ مانے گا تو پچھتائے گا
پیار نادان کو مت دے کہ یہ مر جائے گا
روش عام سے ہُشیار کہ پچھتائے گا
وقت کو چھوڑ یہ پانی ہے گزر جائے گا
سچ کوئی فن تو نہیں ہے جو سکھایا جائے
جھوٹ سے کام لے سچ بولنا آ جائے گا
حدودِ ذات میں اوروں کا ذکر ہی کیا ہے
خود آدمی بھی نہ سمجھا کہ آدمی کیا ہے
یہ فاصلے جو تِرے قُرب کی ضمانت ہیں
سمٹ گئے تو بتاؤں گا زندگی کیا ہے؟
حجابِ ذات سے باہر کہاں ابھی ہم لوگ
ابھی یہ کون بتائے کہ آدمی کیا ہے؟
محبت کر چکی ہے کام اپنا
مجھے معلوم ہے انجام اپنا
نہیں اس مے کدہ میں کام اپنا
جہاں مے ہو پرائی، جام اپنا
محبت تو محبت ہی رہے گی
ضرورت کچھ بھی رکھ لے نام اپنا
اس سے پہلے کہ غم عشق فُغاں تک پہنچے
تم یہ موقع ہی نہ دو بات یہاں تک پہنچے
تا بہ دامانِ جنوں عقل نگہبان رہی
پھر مجھے ہوش نہیں ہاتھ کہاں تک پہنچے
لے غمِ عشق! ہمی خاک ہوئے جاتے ہیں
یہ تو کہنے کو نہ ہو گا؛ کہ فُغاں تک پہنچے
یہ کیا شکوہ کہ وہ اپنا نہیں ہے
محبت خون کا رشتہ نہیں ہے
جو میں نے کہہ دیا ہو کر رہے گا
مِرا مشرب غمِ فردا نہیں ہے
بہت پہلے میں اس کو پڑھ چکا ہوں
میری قسمت میں جو لکھا نہیں ہے
کس کا بھید کہاں کی قسمت پگلے کس جنجال میں ہے
بازی ہے اک سادہ کاغذ سارا کرتب چال میں ہے
ایک رہیں یا دو ہو جائیں رسوائی ہر حال میں ہے
جیون روپ کی ساری شوبھا جیون کے جنجال میں ہے
تجھ سے بچھڑ کر تجھ سے مل کر دونوں موسم دیکھ لیے
بات جہاں تھی اب بھی وہیں ہے فرق ذرا سا حال میں ہے