Showing posts with label انجم بدایونی. Show all posts
Showing posts with label انجم بدایونی. Show all posts

Sunday, 23 October 2022

سن کہا مان نہ مانے گا تو پچھتائے گا

 سن کہا مان نہ مانے گا تو پچھتائے گا

پیار نادان کو مت دے کہ یہ مر جائے گا

روش عام سے ہُشیار کہ پچھتائے گا

وقت کو چھوڑ یہ پانی ہے گزر جائے گا

سچ کوئی فن تو نہیں ہے جو سکھایا جائے

جھوٹ سے کام لے سچ بولنا آ جائے گا

Sunday, 18 September 2022

حدود ذات میں اوروں کا ذکر ہی کیا ہے

 حدودِ ذات میں اوروں کا ذکر ہی کیا ہے

خود آدمی بھی نہ سمجھا کہ آدمی کیا ہے

یہ فاصلے جو تِرے قُرب کی ضمانت ہیں

سمٹ گئے تو بتاؤں گا زندگی کیا ہے؟

حجابِ ذات سے باہر کہاں ابھی ہم لوگ

ابھی یہ کون بتائے کہ آدمی کیا ہے؟

Tuesday, 13 September 2022

محبت کر چکی ہے کام اپنا

 محبت کر چکی ہے کام اپنا

مجھے معلوم ہے انجام اپنا

نہیں اس مے کدہ میں کام اپنا

جہاں مے ہو پرائی، جام اپنا

محبت تو محبت ہی رہے گی

ضرورت کچھ بھی رکھ لے نام اپنا

Monday, 12 September 2022

اس سے پہلے کہ غم عشق فغاں تک پہنچے

 اس سے پہلے کہ غم عشق فُغاں تک پہنچے

تم یہ موقع ہی نہ دو بات یہاں تک پہنچے

تا بہ دامانِ جنوں عقل نگہبان رہی

پھر مجھے ہوش نہیں ہاتھ کہاں تک پہنچے

لے غمِ عشق! ہمی خاک ہوئے جاتے ہیں

یہ تو کہنے کو نہ ہو گا؛ کہ فُغاں تک پہنچے

Sunday, 11 September 2022

یہ کیا شکوہ کہ وہ اپنا نہیں ہے

 یہ کیا شکوہ کہ وہ اپنا نہیں ہے

محبت خون کا رشتہ نہیں ہے

جو میں نے کہہ دیا ہو کر رہے گا

مِرا مشرب غمِ فردا نہیں ہے

بہت پہلے میں اس کو پڑھ چکا ہوں

میری قسمت میں جو لکھا نہیں ہے

Friday, 9 April 2021

کس کا بھید کہاں کی قسمت پگلے کس جنجال میں ہے

 کس کا بھید کہاں کی قسمت پگلے کس جنجال میں ہے

بازی ہے اک سادہ کاغذ سارا کرتب چال میں ہے

ایک رہیں یا دو ہو جائیں رسوائی ہر حال میں ہے

جیون روپ کی ساری شوبھا جیون کے جنجال میں ہے

تجھ سے بچھڑ کر تجھ سے مل کر دونوں موسم دیکھ لیے

بات جہاں تھی اب بھی وہیں ہے فرق ذرا سا حال میں ہے