ننگے پیر آپ نہ یوں سیرِ گلستاں کیجیۓ
احتیاط اتنا تو اے جانِ بہاراں! کیجیۓ
چاندنی حسن کی اک بار چھڑک کر میرے
جسم میں پھیلے بیابان کو تاباں کیجیۓ
حسنِ گفتار سے یوں کیجیے گل افشانی آپ
دل کے آنگن کو محبت کا گلستاں کیجیۓ
ننگے پیر آپ نہ یوں سیرِ گلستاں کیجیۓ
احتیاط اتنا تو اے جانِ بہاراں! کیجیۓ
چاندنی حسن کی اک بار چھڑک کر میرے
جسم میں پھیلے بیابان کو تاباں کیجیۓ
حسنِ گفتار سے یوں کیجیے گل افشانی آپ
دل کے آنگن کو محبت کا گلستاں کیجیۓ
تبسم لب پہ ہے سرکار کیسا
ہے ظاہر غم سرِ رُخسار کیسا
کہانی عشق کی خوں مانگتی تھی
نبھایا آپ نے کردار کیسا
نہ ہو مشہور دنیا میں محبت
تو پھر گُھٹ گُھٹ کے کرنا پیار کیسا
گھر سبھی زِندان ہو جائیں گے کیا
ہم یونہی بے جان ہو جائیں گے کیا
بارگاہِ عشق میں آئے بغیر
وحشی وہ انسان ہو جائیں گے کیا
ہم زرِ اُلفت لُٹاتے ہیں یونہی
ہم تہی دامان ہو جائیں گے کیا
جمالِ یار دکھاؤ بہت اندھیرا ہے
نہیں تو حشر اُٹھاؤ بہت اندھیرا ہے
یہ خوف ہے کہ نہ گمراہ کر دے منزل سے
جنوں کا سُورج اُگاؤ بہت اندھیرا ہے
بُجھا بُجھا ہے چراغِ تبسم ان کا جب
پھر اپنا زخم جلاؤ بہت اندھیرا ہے
عشق بھی آج سیاست سے کِیا جاتا ہے
اس کو موسوم تجارت سے کیا جاتا ہے
ٹوٹی تسبیح کے دانوں سے جو بکھریں رشتے
ان کو تنظیم سہولت سے کیا جاتا ہے
قدر جو پاس ہیں کچھ ان کی نہیں، دور ہیں جو
انتظار ان کا ہی شِدت سے کیا جاتا ہے