Showing posts with label سلیم رضا. Show all posts
Showing posts with label سلیم رضا. Show all posts

Friday, 15 October 2021

ننگے پیر آپ نہ یوں سیر گلستاں کیجیے

 ننگے پیر آپ نہ یوں سیرِ گلستاں کیجیۓ

احتیاط اتنا تو اے جانِ بہاراں! کیجیۓ

چاندنی حسن کی اک بار چھڑک کر میرے

جسم میں پھیلے بیابان کو تاباں کیجیۓ

حسنِ گفتار سے یوں کیجیے گل افشانی آپ

دل کے آنگن کو محبت کا گلستاں کیجیۓ 

Thursday, 14 October 2021

تبسم لب پہ ہے سرکار کیسا

 تبسم لب پہ ہے سرکار کیسا

ہے ظاہر غم سرِ رُخسار کیسا

کہانی عشق کی خوں مانگتی تھی

نبھایا آپ نے کردار کیسا

نہ ہو مشہور دنیا میں محبت

تو پھر گُھٹ گُھٹ کے کرنا پیار کیسا

Wednesday, 13 October 2021

گھر سبھی زندان ہو جائیں گے کیا

 گھر سبھی زِندان ہو جائیں گے کیا

ہم یونہی بے جان ہو جائیں گے کیا

بارگاہِ عشق میں آئے بغیر

وحشی وہ انسان ہو جائیں گے کیا

ہم زرِ اُلفت لُٹاتے ہیں یونہی

ہم تہی دامان ہو جائیں گے کیا

Sunday, 26 September 2021

جمال یار دکھاؤ بہت اندھیرا ہے

 جمالِ یار دکھاؤ بہت اندھیرا ہے

نہیں تو حشر اُٹھاؤ بہت اندھیرا ہے

یہ خوف ہے کہ نہ گمراہ کر دے منزل سے

جنوں کا سُورج اُگاؤ بہت اندھیرا ہے

بُجھا بُجھا ہے چراغِ تبسم ان کا جب

پھر اپنا زخم جلاؤ بہت اندھیرا ہے

Monday, 13 September 2021

عشق بھی آج سیاست سے کیا جاتا ہے

 عشق بھی آج سیاست سے کِیا جاتا ہے

اس کو موسوم تجارت سے کیا جاتا ہے

ٹوٹی تسبیح کے دانوں سے جو بکھریں رشتے

ان کو تنظیم سہولت سے کیا جاتا ہے

قدر جو پاس ہیں کچھ ان کی نہیں، دور ہیں جو

انتظار ان کا ہی شِدت سے کیا جاتا ہے