Showing posts with label حسن نظامی. Show all posts
Showing posts with label حسن نظامی. Show all posts

Saturday, 13 June 2026

یوں تو سینے میں کئی تیر نکیلے اترے

 آنکھ کی راہ سے بُجھتے ہوئے لمحے اُترے

اقرباء جتنے تھے کشتی کے وہ سارے اترے

اس سے کہتے ہو کہ پھر لوٹنا ہو گا چھت پر

سانس کی لے کو جو تھامے ہوئے زینے اترے

چھا گئی بچوں کے چہرے پہ نئی ہریالی

آج پھر پیڑوں سے آنگن میں پرندے اترے

Monday, 16 June 2025

سوکھے ہوئے درخت کے پتوں کو دیکھنا

 سوکھے ہوئے درخت کے پتوں کو دیکھنا

پھر چہرۂ حیات کے زخموں کو دیکھنا

خوش رنگئ حیات کا پاؤ گے عکس تم

پتھر اُچھال کر ذرا لہروں کو دیکھنا

میری نظر میں یہ بھی عبادت خُدا کی ہے

شفقت بھری نگاہ سے بچوں کو دیکھنا

Thursday, 26 December 2024

تلخیاں رہ جائیں گی لفظ وفا رہ جائے گا

 تلخیاں رہ جائیں گی، لفظِ وفا رہ جائے گا

درمیاں اخلاص کے پھر اک خلا رہ جائے گا 

حادثاتِ زندگی پر غور کرنا چاہیے

چھوٹ جائے گا نوالہ، سب پڑا رہ جائے گا

آنگنوں کے درمیاں دیوار جو اٹھ جائے گی 

دھوپ میں اپنا کوئی باہر کھڑا رہ جائے گا 

Friday, 13 December 2024

زندگی غمگین ہوتی جا رہی ہے

 زندگی غمگین ہوتی جا رہی ہے

آرزو رنگین ہوتی جا رہی ہے

چاند تارے آسمانوں میں ٹنگے ہیں

رات کی تزئین ہوتی جا رہی ہے

ظُلم پھر پروان چڑھتا جا رہا ہے

ضبط کی توہین ہوتی جا رہی ہے