آنکھ کی راہ سے بُجھتے ہوئے لمحے اُترے
اقرباء جتنے تھے کشتی کے وہ سارے اترے
اس سے کہتے ہو کہ پھر لوٹنا ہو گا چھت پر
سانس کی لے کو جو تھامے ہوئے زینے اترے
چھا گئی بچوں کے چہرے پہ نئی ہریالی
آج پھر پیڑوں سے آنگن میں پرندے اترے
آنکھ کی راہ سے بُجھتے ہوئے لمحے اُترے
اقرباء جتنے تھے کشتی کے وہ سارے اترے
اس سے کہتے ہو کہ پھر لوٹنا ہو گا چھت پر
سانس کی لے کو جو تھامے ہوئے زینے اترے
چھا گئی بچوں کے چہرے پہ نئی ہریالی
آج پھر پیڑوں سے آنگن میں پرندے اترے
سوکھے ہوئے درخت کے پتوں کو دیکھنا
پھر چہرۂ حیات کے زخموں کو دیکھنا
خوش رنگئ حیات کا پاؤ گے عکس تم
پتھر اُچھال کر ذرا لہروں کو دیکھنا
میری نظر میں یہ بھی عبادت خُدا کی ہے
شفقت بھری نگاہ سے بچوں کو دیکھنا
تلخیاں رہ جائیں گی، لفظِ وفا رہ جائے گا
درمیاں اخلاص کے پھر اک خلا رہ جائے گا
حادثاتِ زندگی پر غور کرنا چاہیے
چھوٹ جائے گا نوالہ، سب پڑا رہ جائے گا
آنگنوں کے درمیاں دیوار جو اٹھ جائے گی
دھوپ میں اپنا کوئی باہر کھڑا رہ جائے گا
زندگی غمگین ہوتی جا رہی ہے
آرزو رنگین ہوتی جا رہی ہے
چاند تارے آسمانوں میں ٹنگے ہیں
رات کی تزئین ہوتی جا رہی ہے
ظُلم پھر پروان چڑھتا جا رہا ہے
ضبط کی توہین ہوتی جا رہی ہے