میں نے ویرانے کو گلزار بنا رکھا ہے
کیا برا ہے جو حقیقت کو چھپا رکھا ہے
دور حاضر میں کوئی کاش زمیں سے پوچھے
آج انسان کہاں تُو نے چھپا رکھا ہے
وہ تو خود غرضی ہے لالچ ہے ہوس ہے جن کا
نام اس دور کے انساں نے وفا رکھا ہے
میں نے ویرانے کو گلزار بنا رکھا ہے
کیا برا ہے جو حقیقت کو چھپا رکھا ہے
دور حاضر میں کوئی کاش زمیں سے پوچھے
آج انسان کہاں تُو نے چھپا رکھا ہے
وہ تو خود غرضی ہے لالچ ہے ہوس ہے جن کا
نام اس دور کے انساں نے وفا رکھا ہے
ہندی اردو
لتا حیا
میں ہندی کی وہ بیٹی ہوں جسے اردو نے پالا ہے
اگر ہندی کی روٹی ہے، تو اردو کا نوالا ہے
مجھے ہے پیار دونوں سے مگر یہ بھی حقیقت ہے
لتا جب لڑکھڑاتی ہے، حیا نے ہی سنبھالا ہے
قسمت عجیب کھیل دِکھاتی چلی گئی
جو ہنس رہے تھے ان کو رُلاتی چلی گئی
دل گویا حادثاتِ مُسلسل کا شہر ہو
دھڑکن بھی چیخ بن کے ڈراتی چلی گئی
کاغذ کی طرح ہو گئی بوسیدہ زندگی
تحریر حسرتوں کی مِٹاتی چلی گئی
اسلام کی عظمت
جو انسان کو جینے کا انداز سکھاتا ہے
سانسوں کی آمد کا گہرا راز بتاتا ہے
جو یہ کہتا ہے دنیا کیسے ایجاد ہوئی
اک غلطی سے خارج آدم کی فریاد ہوئی
جو یہ کہتا ہے دنیا کو ایک سزا سمجھو
اپنے ہونے میں اللہ کی صرف رضا سمجھو
کسی مظلوم کے دل کی صدا کو یاد کر لینا
کسی بھی ظلم سے پہلے سزا کو یاد کر لینا
بُرا جب وقت آتا ہے، تو رب کو یاد کرتے ہو
کبھی اچھی گھڑی میں بھی خدا کو یاد کر لینا
حقوق عورت کے مردوں سے ہیں کیا یہ جاننا ہے تو
کلام اللہ کی سورۃ نساء کو یاد کر لینا
تجھے دل یاد کرے تیری فریاد کرے
جب رات میں جگنو کو چمکتے ہوئے دیکھوں
بھنوروں کو جو پھولوں پہ مچلتے ہوئے دیکھوں
پروانوں کو جب شمع پر جلتے ہوئے دیکھوں
تجھے دل یاد کرے تیری فریاد کرے
دن تیرے انتظار میں کٹ کٹ کے گزر جائے