محبتوں کی وسعتیں، خیال اُس سے پوچھنا
پھر اس کے بعد دفعتاً زوال اس سے پوچھنا
ہنسانا اس کو پہلے تم محبتوں کے ذکر سے
ہنسی میں غم کو ڈھونڈنا ملال اس سے پوچھنا
نظر بچا کے دیکھنا وہ کپکپاتے ہونٹ تم
مِری خودی پہ جب کوئی سوال اس سے پوچھنا
محبتوں کی وسعتیں، خیال اُس سے پوچھنا
پھر اس کے بعد دفعتاً زوال اس سے پوچھنا
ہنسانا اس کو پہلے تم محبتوں کے ذکر سے
ہنسی میں غم کو ڈھونڈنا ملال اس سے پوچھنا
نظر بچا کے دیکھنا وہ کپکپاتے ہونٹ تم
مِری خودی پہ جب کوئی سوال اس سے پوچھنا
اِس ضبطِ بے مثال پہ شاباش دیجیے
مجھ کو مِرے کمال پہ شاباش دیجیے
میرا خیال تھا کہ نبھائے گا عمر بھر
مجھ کو مِرے خیال پہ شاباش دیجیے
بھر ہی گیا ہے زخمِ جدائی بھی دیکھیے
اب مجھ کو اندمال پہ شاباش دیجیے
گونگے بہرے ہیں یہ فرمان کہاں سنتے ہیں
اے خدا! سن لے کہ انسان کہاں سنتے ہیں
اِس زمانے میں محبت کی زباں والوں کو
آنکھیں سنتی ہیں، بھلا کان کہاں سنتے ہیں
لاکھ چیخا میں کہ کچا ہے مِرا گھر لیکن
موج میں آئے ہوں طوفان، کہاں سنتے ہیں
سدا سے منتظر تھا کب صدا آئے دریچے سے
مِرا دم گھٹ رہا ہے اب، ہوا آئے دریچے سے
تِرے لہجے میں تجھ کو ہی پکارا ہے تو ممکن ہے
ہوا کے ہاتھ اب تیرا پتا آئے دریچے سے
میں دل میں کب تلک بارِ غمِ جاناں لیے پھرتا
جو اس نے در نہیں کھولا، سُنا آئے دریچے سے
نہ اتنا پڑھا لکھا ہوں، نہ حساب آ رہے ہیں
مجھے یاد تیرے حسن پر کچھ باب آ رہے ہیں
یعنی اگلی نسل پڑھے گی تیری آنکھیں، تیرا لہجہ
سنا ہے تیری زیست پر نصاب آ رہے ہیں
تیری اک نظر کی خاطر، بننا، سنورنا، جُھکنا
ہم جاہلوں کو کتنے آداب آ رہے ہیں
ریت سے کبھی پوچھو
جلتے ہوئے صحرا پہ
کتنی منتوں کے بعد
ابر کیسے آتا ہے
اب تم کو کیسے بتلائیں
ہجر کے اسیروں کو
سنا ہے لوگ کہتے ہیں
تعلق ٹوٹ جائے تو
وہ یکسر ٹوٹ جاتا ہے
تو پھر ہم دیکھتے کیوں ہیں
کسی کی سبز لائٹ کو
کسی واٹس ایپ سٹیٹس کو
منزلوں کی اور جاتے سب اشارے مر گئے
آنکھ کی دہلیز پر جب خواب سارے مر گئے
لمحہ بھر کو چاند مٹھی میں چھپا کے رکھ لیا
لمحہ بھر میں دیکھ تو کتنے ستارے مر گئے
اس نے جب اک پھول کے رخسار پر بوسہ دیا
تم نے دیکھا ہی نہیں کتنے نظارے مر گئے
بہت سے لوگ ہیں مجھ سے خسارہ پوچھنے والے
تمہارا نام نہ لے کر تمہارا پوچھنے والے
تیرے ترکِ تعلق نے بہت سے لوگ چھینے ہیں
تیری نِسبت سے آتے تھے ہمارا پوچھنے والے
بتاؤ کیا کہوں اُن کو سبب کیا ہے جدائی کا؟
میرے در پر کھڑے ہیں وہ دوبارہ پوچھنے والے
چلو کچھ خواب لکھتے ہیں
ہجر کے سرد موسم میں اٹھا کے زرد پتوں پر
ہوائیں جن کو لے جائیں بڑی لمبی مسافت پہ
کسی بے خواب نگری میں
کہیں انجان راہوں پر
جہاں پر میں نہیں ہوں گا
سُکھ چین، اضطراب سے پہلے کی بات ہے
یہ پیار کے عذاب سے پہلے کی بات ہے
ہوتی تھی روز چاند ستاروں سے گفتگو
تمہارے انتخاب سے پہلے کی بات ہے
دو سے نکالو ایک تو بچتا تھا ایک ہی
یہ عشق کے حساب سے پہلے کی بات ہے