Showing posts with label اشفاق صائم. Show all posts
Showing posts with label اشفاق صائم. Show all posts

Thursday, 30 March 2023

محبتوں کی وسعتیں خیال اس سے پوچھنا

 محبتوں کی وسعتیں، خیال اُس سے پوچھنا

پھر اس کے بعد دفعتاً زوال اس سے پوچھنا

ہنسانا اس کو پہلے تم محبتوں کے ذکر سے

ہنسی میں غم کو ڈھونڈنا ملال اس سے پوچھنا

نظر بچا کے دیکھنا وہ کپکپاتے ہونٹ تم

مِری خودی پہ جب کوئی سوال اس سے پوچھنا

Saturday, 31 December 2022

اس ضبطِ بے مثال پہ شاباش دیجیے

 اِس ضبطِ بے مثال پہ شاباش دیجیے

مجھ کو مِرے کمال پہ شاباش دیجیے

میرا خیال تھا کہ نبھائے گا عمر بھر

مجھ کو مِرے خیال پہ شاباش دیجیے

بھر ہی گیا ہے زخمِ جدائی بھی دیکھیے

اب مجھ کو اندمال پہ شاباش دیجیے

Saturday, 26 March 2022

گونگے بہرے ہیں یہ فرمان کہاں سنتے ہیں

 گونگے بہرے ہیں یہ فرمان کہاں سنتے ہیں 

اے خدا! سن لے کہ انسان کہاں سنتے ہیں 

اِس زمانے میں محبت کی زباں والوں کو

آنکھیں سنتی ہیں، بھلا کان کہاں سنتے ہیں

لاکھ چیخا میں کہ کچا ہے مِرا گھر لیکن

موج میں آئے ہوں طوفان، کہاں سنتے ہیں 

Tuesday, 22 March 2022

سدا سے منتظر تھا کب صدا آئے دریچے سے

 سدا سے منتظر تھا کب صدا آئے دریچے سے

مِرا دم گھٹ رہا ہے اب، ہوا آئے دریچے سے

تِرے لہجے میں تجھ کو ہی پکارا ہے تو ممکن ہے

ہوا کے ہاتھ اب تیرا پتا آئے دریچے سے 

میں دل میں کب تلک بارِ غمِ جاناں لیے پھرتا

جو اس نے در نہیں کھولا، سُنا  آئے دریچے سے

Thursday, 3 February 2022

نہ اتنا پڑھا لکھا ہوں نہ حساب آ رہے ہیں

 نہ اتنا پڑھا لکھا ہوں، نہ حساب آ رہے ہیں

مجھے یاد تیرے حسن پر کچھ باب آ رہے ہیں

یعنی اگلی نسل پڑھے گی تیری آنکھیں، تیرا لہجہ

سنا ہے تیری زیست پر نصاب آ رہے ہیں

تیری اک نظر کی خاطر، بننا، سنورنا، جُھکنا

ہم جاہلوں کو کتنے آداب آ رہے ہیں

Saturday, 25 December 2021

ابر کیسے آتا ہے صبر کیسے آتا ہے

 ریت سے کبھی پوچھو

جلتے ہوئے صحرا پہ 

کتنی منتوں کے بعد 

ابر کیسے آتا ہے

اب تم کو کیسے بتلائیں

ہجر کے اسیروں کو

Monday, 20 December 2021

سنا ہے لوگ کہتے ہیں تعلق ٹوٹ جائے تو

 سنا ہے لوگ کہتے ہیں 

تعلق ٹوٹ جائے تو 

وہ یکسر ٹوٹ جاتا ہے 

تو پھر ہم دیکھتے کیوں ہیں 

کسی کی سبز لائٹ کو 

کسی واٹس ایپ سٹیٹس کو 

Tuesday, 14 December 2021

منزلوں کی اور جاتے سب اشارے مر گئے

 منزلوں کی اور جاتے سب اشارے مر گئے

آنکھ کی دہلیز پر جب خواب سارے مر گئے

لمحہ بھر کو چاند مٹھی میں چھپا کے رکھ لیا

لمحہ بھر میں دیکھ تو کتنے ستارے مر گئے

اس نے جب اک پھول کے رخسار پر بوسہ دیا

تم نے دیکھا ہی نہیں کتنے نظارے مر گئے

Monday, 5 April 2021

بہت سے لوگ ہیں مجھ سے خسارہ پوچھنے والے

 بہت سے لوگ ہیں مجھ سے خسارہ پوچھنے والے

تمہارا نام نہ لے کر تمہارا پوچھنے والے

تیرے ترکِ تعلق نے بہت سے لوگ چھینے ہیں

تیری نِسبت سے آتے تھے ہمارا پوچھنے والے

بتاؤ کیا کہوں اُن کو سبب کیا ہے جدائی کا؟

میرے در پر کھڑے ہیں وہ دوبارہ پوچھنے والے

Friday, 18 December 2020

چلو کچھ خواب لکھتے ہیں

 چلو کچھ خواب لکھتے ہیں

ہجر کے سرد موسم میں اٹھا کے زرد پتوں پر

ہوائیں جن کو لے جائیں بڑی لمبی مسافت پہ

کسی بے خواب نگری میں

کہیں انجان راہوں پر

جہاں پر میں نہیں ہوں گا

Thursday, 17 December 2020

سکھ چین اضطراب سے پہلے کی بات ہے

 سُکھ چین، اضطراب سے پہلے کی بات ہے

یہ پیار کے عذاب سے پہلے کی بات ہے

ہوتی تھی روز چاند ستاروں سے گفتگو

تمہارے انتخاب سے پہلے کی بات ہے

دو سے نکالو ایک تو بچتا تھا ایک ہی

یہ عشق کے حساب سے پہلے کی بات ہے