Monday, 20 December 2021

سنا ہے لوگ کہتے ہیں تعلق ٹوٹ جائے تو

 سنا ہے لوگ کہتے ہیں 

تعلق ٹوٹ جائے تو 

وہ یکسر ٹوٹ جاتا ہے 

تو پھر ہم دیکھتے کیوں ہیں 

کسی کی سبز لائٹ کو 

کسی واٹس ایپ سٹیٹس کو 

کسی کی ٹائم لائن پر

کیوں ہم سرچ کرتے ہیں 

کہ شاید ایک پوسٹ پر

کسی نے اس سے پوچھا ہو

تمہارا تھا کوئی پہلے

تو شاید بے خودی میں 

اس نے میرا نام

لکھا ہو

کوئی اک شعر ایسا ہو 

پروفائل کے بائیو پر

جدائی پہ جو لکھا ہو

اسے کاپی کرو گے تم

بہت مطلب نکالو گے 

اسی کی ٹائم لائن پر

بہت ہی بے بسی سے پھر 

انا کو توڑ آتے ہو 

وہاں اک لائک کی صورت

کسی کمنٹ کی صورت 

تم خود کو چھوڑ آتے ہو

یا اس کی نئی پوسٹ پر 

کسی سے پاگلوں جیسے 

یونہی پھر بحث کر لینا

کہ تمہارا نام مسلسل اسے

نوٹیفکیشن میں نظر آئے

تو تم اس کو یاد آؤ گے

شاید آ بھی جاؤ گے

تو کیا ریپلائی آئے گا

کہ جب ترکِ تعلق ہے 

تو کیوں پھر دوسروں سے 

اس کی خیریت معلوم کرتے ہو 

تو کیوں اس کی ہر اک ڈی پی کو 

جا کے زوم کرتے ہو 

پھر اس کی

ہر اک پکچر پہ

یوں ہالے کی صورت میں 

کبھی انگلی گھماتے ہو 

تو  

کبھی اس کی سٹوری پر

سٹیکر بھیجنا کوئی

کبھی اس کے سٹیٹس پر 

" بہت ہی خوب " لکھ دینا

تو پھر کیوں رات کو اکثر

کسی گُڈ نائیٹ پوسٹ پر 

اسی کو ٹیگ کرتے ہو

اور سونے سے ذرا پہلے

پرانی چَیٹ پڑھتے ہو

کیوں بے چین ہوتے ہو 

تم ایکٹو ناؤ کے لفظوں پر

بڑے بے تاب ہوتے ہو

وہ اب تک آن لائن ہے

تو پھر کیوں لوگ کہتے ہیں 

تعلق ٹوٹ جائے تو 

وہ یکسر ٹوٹ جاتا ہے

مگر ایسا نہیں ہوتا 

تعلق ٹوٹ بھی جائے 

ذرا سا پھر بھی رہتا ہے 

ذرا سا پھر بھی رہتا ہے


اشفاق صائم

No comments:

Post a Comment