دکھاتی ہمیں بے گھری اور کیا
چلو خاک چھانی گئی اور کیا
مہکتی ہے شب آپ کی یاد سے
مزے دے غمِ عاشقی اور کیا
سویرے سے ہی کھو دیا کام سے
کرے گی یہ دل کی لگی اور کیا
دکھاتی ہمیں بے گھری اور کیا
چلو خاک چھانی گئی اور کیا
مہکتی ہے شب آپ کی یاد سے
مزے دے غمِ عاشقی اور کیا
سویرے سے ہی کھو دیا کام سے
کرے گی یہ دل کی لگی اور کیا
اشکوں کی دھوم دھام سے پہلے اداس ہے
دل ہے کہ آج شام سے پہلے اداس ہے
ہے زندگی پہ کس کو یہاں اپنی اختیار
ہر شخص اپنے کام سے پہلے اداس ہے
اس حشر کا بتائیے پھر کس کو خوف ہو
آقاﷺ جہاں غلام سے پہلے اداس ہے
چاند تارے اداس رہتے ہیں
تیرے پیارے اداس رہتے ہیں
ماہِ کامل کو دیکھنے کے بعد
سب نظارے اداس رہتے ہیں
دریا بہتا ہے موج میں اپنی
اور کنارے اداس رہتے ہیں
محبت میں دھوکے سے مارا گیا ہے
مجھے آسماں سے اتارا گیا ہے
میں شہباز ہوں عشق کی وادیوں کا
جہاں میرے آگے پسارا گیا ہے
خدا کی قسم کچھ بچا ہی نہیں ہے
کسے کس طرح جانے ہارا گیا ہے
ساتھ ہونا بھی تِرا جُھوٹا دلاسا ہے مجھے
میں سمجھتا ہوں کہ لفظوں سے بہلنا ہے مجھے
کیوں سنبھالوں جو یہ کہتے ہو سنبھالو خود کو
جب تِرا غیر کا ہونا بھی گوارا ہے مجھے
تُو اترتا ہی نہیں دل سے ابھی تک میرے
تُو نے کس طرح خدا جانے بھلایا ہے مجھے
چین پڑتا ہے گھڑی بھر کو نہ آرام مجھے
لے کے پھرتی ہے کہاں گردشِ ایام مجھے
مجھ کو تحویل میں اپنی ہی پڑا رہنے دے
وقت پڑ جائے تو کر لینا تُو نیلام مجھے
وسوسے گھیرے ہوئے ہیں مجھے ہر جانب سے
رات بھر سونے نہیں دیتے ہیں اوہام مجھے