دکھاتی ہمیں بے گھری اور کیا
چلو خاک چھانی گئی اور کیا
مہکتی ہے شب آپ کی یاد سے
مزے دے غمِ عاشقی اور کیا
سویرے سے ہی کھو دیا کام سے
کرے گی یہ دل کی لگی اور کیا
تھی پائل کبھی اب ہیں گھنگرو بندھے
دکھائے گی اب زندگی اور کیا
نہ اپنا ہے کوئی نہ امید ہے
ہو محسوس تیری کمی اور کیا
سلیقے سے ہم نے کیا عشق بھی
سکھاتی ہمیں شاعری اور کیا
جو تجھ پہ فدا ہو گیا، مٹ گیا
وہ رامِز کرے خودکشی اور کیا
رامز ہاشمی
عبدالسلام
No comments:
Post a Comment