Showing posts with label ادیب رائے پوری. Show all posts
Showing posts with label ادیب رائے پوری. Show all posts

Tuesday, 30 July 2024

دیکھے ترا جلوہ تو تڑپ جائے نظر بھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دیکھے ترا جلوہ تو تڑپ جائے نظر بھی

روشن ہیں تیرے نور سے سورج بھی قمر بھی

دی طائروں نے تیری رسالتﷺ کی گواہی

بول اُٹھے تیرے حکم سے پتھر بھی شجر بھی

جس وقت چلے تم ہوئے خوشبو سے معطر

کوچے بھی مکانات بھی دیوار بھی در بھی

Friday, 12 July 2024

میرے حسین تجھے سلام

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

 میرے حسینؑ تجھے سلام


میرے حسینؑ تجھے سلام 

میرے حسینؑ تجھے سلام

السلام یا حسینؑ السلام یا حسینؑ

السلام یا حسینؑ السلام یا حسینؑ


جن کا جھولا فرشتے جھلاتے رہے

لوریاں دے کے نوری سلاتے رہے

Tuesday, 28 May 2024

کبھی رنج آئے نہ آلام آئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کبھی رنج آئے نہ آلام آئے

جہاں مصطفیٰﷺ کا یہ انعام آئے

تمنا تھی یارب مِرے گھر بھی اک دن

یہ اک مُوئے زُلفِ سیہ فام آئے

مِرے گھر کے دیوار و در آج مہکے

مِرے اشک آخر مِرے کام آئے

Monday, 27 May 2024

رخ پہ نقاب ڈال کر خوب کہا کے دیکھ لے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رُخ پہ نقاب ڈال کر خوب کہا کے دیکھ لے

سامنے ہو کے چھپ گئے اور یہ کہا کے دیکھ لے

خود سے دکھائیں خود کو وہ ان کے کرم کی بات ہے

ورنہ محال ہے کوئی آنکھ اٹھا کے دیکھ لے

طُور پر صاف کہہ دیا موسیٰؑ کہ ہوش میں رہو

اور حبیبﷺ سے کہا، آ مجھے آ کے دیکھ لے

Thursday, 23 May 2024

ناز کر ناز کہ ہے ان کے طلبگاروں میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ناز کر ناز کہ ہے اُنؐ کے طلبگاروں میں

کم کسی سے نہیں نعمت یہ گنہگاروں میں

ہر طرف تم ہی نظر آئے ہو نظاروں میں

اس طرح بس گئے ہو تم مِرے افکاروں میں

ہجر کی آگ کسوٹی ہے محبت والوں

بُوالہوس رہ نہیں سکتے کبھی انگاروں میں

Wednesday, 26 July 2023

عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار

تو کُھلتے ہیں غلاموں پہ وہ اسرار

کہ رہتے ہیں وہ توصیف و ثنائے شہہِ ابرار میں ہر لحظہ گُہر بار

ورنہ وہ سیدِ عالی نسبی، ہاں وہی اُمی لقبی ہاشمی و مُطلبی و عربی و قرشی و مدنی

اور کہاں ہم سے گنہ گار

عشق کے رنگ میں رنگ جاؤ مِرے یار

Tuesday, 25 July 2023

دختر ختم الرسل جان پیمبر فاطمہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


دُخترِ ختمِ الرُسل جانِ پیمبرﷺ فاطمہؑ

اے وقارِ بُو ترابیؑ، شانِ حیدرؑ فاطمہؑ

رُوح کی تشنہ لبی کو آب کوثر، فاطمہؑ

سجدہ گاہِ اہلِ ایماں، آپ کا در فاطمہؑ

لُٹ رہا تھا کربلا میں آپ کا گھر، فاطمہؑ

آپ نے دیکھا ہے محشر، قبلِ محشر، فاطمہؑ

Saturday, 6 August 2022

آیات والضحٰی میں فترضٰی تمہی تو ہو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


آیاتِ والضُحٰی میں فتَرضٰی تمہیؐ تو ہو

بخشش کا عاصیوں پہ در وا تمہی تو ہو

جس نے خدا کے پیکرِ حسن و جمال کو

اپنی کُھلی نِگاہ سے دیکھا، تمہی تو ہو

جس نے خدا سے نعمتِ فردوس کے عوض

ہر اُمتی کی جان کو خریدا، تمہی تو ہو

Friday, 31 December 2021

پہنچ گیا جو تمہارے در پر کہوں گا تم سے سلام سائیں

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


پہنچ گیا جو تمہارے در پر، کہوں گا تم سے سلام سائیں

جو رہ گیا تو یہیں سے بھیجیں گے میرے آنسو، پیام سائیں

تمہارے ہاتھوں میں دے دیا ہے خدا نے سارا نظام سائیں

کوئی تو کر دو میرے بھی آنے کا در پہ اب اہتمام سائیں

عجیب لذت ہے جب پکاروں میں اپنے آقاﷺ کا نام سائیں

جو سُن کے وہ خوش ہوئے، بنا دیں گے میرے سب بگڑے کام سائیں

Thursday, 9 December 2021

آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


آج اشک میرے نعتؐ سنائیں تو عجب کیا

سن کر وہؐ مجھے پاس بلائیں تو عجب کیا

اُنﷺ پر تو گنہ گار کا سب حال کُھلا ہے

اس پر بھی وہ دامن میں چھپائیں تو عجب کیا

منہ ڈھانپ کے رکھنا کہ گنہ گار بہت ہوں

میت کو میری دیکھنے آئیں تو عجب کیا

Friday, 28 August 2020

کوئی گفتگو ہو لب پر تیرا نام آ گیا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

کوئی گفتگو ہو لب پر، تیراﷺ نام آ گیا ہے
تیری مدح کرتے کرتے،۔ یہ مقام آ گیا ہے
درِ مصطفیٰﷺ کا منظر، مِری چشمِ تر کے اندر
کبھی صبح آ گیا ہے،۔ کبھی شام آیا گیا ہے
یہ طلب تھی انبیاء کی رخِ مصطفیٰ کو دیکھیں
یہ نماز کا وسیلہ،۔ انہیں کام آ گیا ہے

جو لمحے تھے سکوں کے سب مدینے میں گزار آئے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

جو لمحے تھے سکوں کے سب مدینے میں گزار آئے​
دلِ مضطر! وطن میں اب تجھے کیسے قرار آئے​
خزاں کو حکم ہے، داخل نہ ہو طیبہ کی گلیوں میں​
اجازت ہے، نسیم آئے،۔ صبا آئے،۔ بہار آئے​
وہ بستی اہلِ دل کی اور دیوانوں کی بستی ہے​
گئے جتنے خرد نازاں وہ دامن تار تار آئے​

آئی پھر یاد مدینے کی رلانے کے لیے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

آئی پھر یاد مدینے کی رلانے کے لیے
دل تڑپ اٹھا ہے دربار میں جانے کے لیے
کاش میں اڑتی پھروں، خاکِ مدینہ بن کر
اور مچلتی رہوں سرکار کو پانے کے لیے
میرے لجپال نے رسوا نہ کبھی ہونے دیا
جب پکارا انہیں آئے ہیں بچانے کے لیے

Wednesday, 26 August 2020

تیرے ذکر سے میری آبرو تری شان جل جلالہ

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

تیرے ذکر سے میری آبرو، تیری شان جَلَّ جَلَالُہٗ
تو میرے کلام کا رنگ و بو، تیری شان جَلَّ جَلَالُہٗ
جو چٹک کے غنچہ کھلے یہاں، تو کرے وہ وصف تیرا بیاں
ہے چمن چمن تیری گفتگو، تیری شان جَلَّ جَلَالُہٗ
میرے دل میں عشقِ نبیﷺ دیا، جو دِیا بجھا تھا جلا دیا
جسے چاہے جیسے نوازے تُو، تیری شان جَلَّ جَلَالُہٗ

اے سکون قلب مضطر اے قرار زندگی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

اے سکونِ قلبِ مضطر اے قرارِ زندگی
اے امینِ رازِ فطرت، اے بہارِ زندگی
تیری ہر ہر جنبشِ لب برگ و بارِ زندگی
تُوﷺ دیارِ عشق میں ہے شہریارِ زندگی
تیرے قدموں کی بدولت تیری آمد کے طفیل
گلستاں ہی گلستاں ہے خار زارِ زندگی

ان پر درود ہر دم ان پر سلام ہر دم

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

ان پر درود ہر دم، ان پر سلام ہر دم
ہر ایک پڑھ رہا ہے دربارِ مصطفیٰﷺ میں
آنسو جو بہہ رہے ہیں، سب حال کہہ رہے ہیں
لب کون کھولتا ہے، دربارِ مصطفیٰﷺ میں
سینہ پہ ہاتھ رکھ کر میں دل کو ڈھونڈتا ہوں
دل مجھ کو ڈھونڈتا ہے، دربارِ مصطفیٰﷺ میں

Sunday, 16 August 2020

کیا شان ہے شان خیرِ بشر انا اعطیناک الکوثر

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

کیا شان ہے شانِ خیرِ بشر، اِنّا اَعْطَیْنٰکَ الکَوثَر
رحمت نے پکارا خود بڑھ کر، اِنّا اَعْطَیْنٰکَ الکَوثَر
کب حق نے گوارا فرمایا، دیکھے وہ ملالِ پیغمبر
جبریل کو بھیجا دے کے خبر، اِنّا اَعْطَیْنٰکَ الکَوثَر
آئی جو صحابہ تک یہ خبر، کفاروں سے بولے خوش ہو کر
اب لاؤ کوئی ایسا لکھ کر، اِنّا اَعْطَیْنٰکَ الکَوثَر

یا محمد نور مجسم یا حبیبی یا مولائی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

یا محمدﷺ نورِِ مجسم، یا حبیبی یا مولائی
تصویرِ کمالِ محبت،۔ تنویرِ جمالِ خدائی
تیرا وصف بیاں ہو کس سے تیری کون کرے گا بڑائی
اس گردِ سفر میں گم ہے جبریلؑ امیں کی رسائی
تیری ایک نظر کے طالب تیرے ایک سخن پہ قرباں
یہ سب تیرے دیوانے،۔ یہ سب تیرے شیدائی

خدا کا ذکر کرے ذکر مصطفیٰ نہ کرے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

خدا کا ذکر کرے، ذکر مصطفیٰﷺ نہ کرے
ہمارے منہ میں ہو ایسی زباں خدا نہ کرے
در رسولﷺ پہ ایسا کبھی نہیں دیکھا
کوئی سوال کرے اور وہ عطا نہ کرے
کہا خدا نے، شفاعت کی بات محشر میں
پہل حبیب کرے، کوئی دوسرا نہ کرے

Sunday, 18 November 2012

آیا نہ ہو گا اس طرح حسن و شباب ریت پر

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام عالی مقام

آیا نہ ہو گا اس طرح حُسن و شباب ریت پر
گلشنِ فاطمہؓ کے تھے سارے گلاب ریت پر
آلِ بتولؓ کے سوا کوئی نہیں کھلا سکا
قطرۂ آب کے بغیر اتنے گلاب ریت پر
عشق میں کیا بچائیے، عشق میں کیا لٹائیے
آلِ نبیؐ نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر