عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دیکھے ترا جلوہ تو تڑپ جائے نظر بھی
روشن ہیں تیرے نور سے سورج بھی قمر بھی
دی طائروں نے تیری رسالتﷺ کی گواہی
بول اُٹھے تیرے حکم سے پتھر بھی شجر بھی
جس وقت چلے تم ہوئے خوشبو سے معطر
کوچے بھی مکانات بھی دیوار بھی در بھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دیکھے ترا جلوہ تو تڑپ جائے نظر بھی
روشن ہیں تیرے نور سے سورج بھی قمر بھی
دی طائروں نے تیری رسالتﷺ کی گواہی
بول اُٹھے تیرے حکم سے پتھر بھی شجر بھی
جس وقت چلے تم ہوئے خوشبو سے معطر
کوچے بھی مکانات بھی دیوار بھی در بھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میرے حسینؑ تجھے سلام
میرے حسینؑ تجھے سلام
میرے حسینؑ تجھے سلام
السلام یا حسینؑ السلام یا حسینؑ
السلام یا حسینؑ السلام یا حسینؑ
جن کا جھولا فرشتے جھلاتے رہے
لوریاں دے کے نوری سلاتے رہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کبھی رنج آئے نہ آلام آئے
جہاں مصطفیٰﷺ کا یہ انعام آئے
تمنا تھی یارب مِرے گھر بھی اک دن
یہ اک مُوئے زُلفِ سیہ فام آئے
مِرے گھر کے دیوار و در آج مہکے
مِرے اشک آخر مِرے کام آئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رُخ پہ نقاب ڈال کر خوب کہا کے دیکھ لے
سامنے ہو کے چھپ گئے اور یہ کہا کے دیکھ لے
خود سے دکھائیں خود کو وہ ان کے کرم کی بات ہے
ورنہ محال ہے کوئی آنکھ اٹھا کے دیکھ لے
طُور پر صاف کہہ دیا موسیٰؑ کہ ہوش میں رہو
اور حبیبﷺ سے کہا، آ مجھے آ کے دیکھ لے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ناز کر ناز کہ ہے اُنؐ کے طلبگاروں میں
کم کسی سے نہیں نعمت یہ گنہگاروں میں
ہر طرف تم ہی نظر آئے ہو نظاروں میں
اس طرح بس گئے ہو تم مِرے افکاروں میں
ہجر کی آگ کسوٹی ہے محبت والوں
بُوالہوس رہ نہیں سکتے کبھی انگاروں میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب افکار
تو کُھلتے ہیں غلاموں پہ وہ اسرار
کہ رہتے ہیں وہ توصیف و ثنائے شہہِ ابرار میں ہر لحظہ گُہر بار
ورنہ وہ سیدِ عالی نسبی، ہاں وہی اُمی لقبی ہاشمی و مُطلبی و عربی و قرشی و مدنی
اور کہاں ہم سے گنہ گار
عشق کے رنگ میں رنگ جاؤ مِرے یار
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
دُخترِ ختمِ الرُسل جانِ پیمبرﷺ فاطمہؑ
اے وقارِ بُو ترابیؑ، شانِ حیدرؑ فاطمہؑ
رُوح کی تشنہ لبی کو آب کوثر، فاطمہؑ
سجدہ گاہِ اہلِ ایماں، آپ کا در فاطمہؑ
لُٹ رہا تھا کربلا میں آپ کا گھر، فاطمہؑ
آپ نے دیکھا ہے محشر، قبلِ محشر، فاطمہؑ
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
آیاتِ والضُحٰی میں فتَرضٰی تمہیؐ تو ہو
بخشش کا عاصیوں پہ در وا تمہی تو ہو
جس نے خدا کے پیکرِ حسن و جمال کو
اپنی کُھلی نِگاہ سے دیکھا، تمہی تو ہو
جس نے خدا سے نعمتِ فردوس کے عوض
ہر اُمتی کی جان کو خریدا، تمہی تو ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
پہنچ گیا جو تمہارے در پر، کہوں گا تم سے سلام سائیں
جو رہ گیا تو یہیں سے بھیجیں گے میرے آنسو، پیام سائیں
تمہارے ہاتھوں میں دے دیا ہے خدا نے سارا نظام سائیں
کوئی تو کر دو میرے بھی آنے کا در پہ اب اہتمام سائیں
عجیب لذت ہے جب پکاروں میں اپنے آقاﷺ کا نام سائیں
جو سُن کے وہ خوش ہوئے، بنا دیں گے میرے سب بگڑے کام سائیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
آج اشک میرے نعتؐ سنائیں تو عجب کیا
سن کر وہؐ مجھے پاس بلائیں تو عجب کیا
اُنﷺ پر تو گنہ گار کا سب حال کُھلا ہے
اس پر بھی وہ دامن میں چھپائیں تو عجب کیا
منہ ڈھانپ کے رکھنا کہ گنہ گار بہت ہوں
میت کو میری دیکھنے آئیں تو عجب کیا