عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ہے جہاں محو خود نمائی میں
خوش ہوں میں آپؐ کی گدائی میں
اسمِ احمدﷺ ورق پہ لکھتے ہی
آ گیا نور روشنائی میں
بھیجتی ہوں درود آقاﷺ پر
میں فرشتوں کی ہمنوائی میں
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
ہے جہاں محو خود نمائی میں
خوش ہوں میں آپؐ کی گدائی میں
اسمِ احمدﷺ ورق پہ لکھتے ہی
آ گیا نور روشنائی میں
بھیجتی ہوں درود آقاﷺ پر
میں فرشتوں کی ہمنوائی میں
سبز رتوں میں پل بھر جو مہمان رہا
ہر موسم میں اس کا ہی کیوں دھیان رہا
آنے والی نیند بھی رستہ بھول گئی
یاد کا جنگل حد درجہ گنجان رہا
شب کے رخ سے ایک ذرا آنچل سر کا
اور اجالا دن بھر کی پہچان رہا
وہ مسیحا نہ بنا، ہم نے بھی خواہش نہیں کی
اپنی شرطوں پہ جیئے ،اس سے گزارش نہیں کی
جانے کیوں بجھنے لگے اول شب سارے چراغ
آندھیوں نے بھی اگرچہ کوئی سازش نہیں کی
اب کہ ہم نے بھی دیا ترک تعلق کا جواب
ہونٹ خاموش رہے، آنکھ نے بارش نہیں کی
اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے
ہر جیت ہے لا حاصل، ہر مات ادھوری ہے
کچھ دیر کی رِم جِھم کو معلوم نہیں شاید
جل تھل نہ ہو آنگن تو برسات ادھوری ہے
کیا خوب تماشہ ہے یہ کارگہِ ہستی
ہر جسم سلامت ہے، ہر ذات ادھوری ہے
بہتے ہوئے اشکوں کی روانی نہیں لکھی
میں نے غم ہجراں کی کہانی نہیں لکھی
جس دن سے تِرے ہاتھ سے چھُوٹا ہے مِرا ہاتھ
اس دن سے کوئی شام سہانی نہیں لکھی
کیا جانئے کیا سوچ کے افسردہ ہوا دل
میں نے تو کوئی بات پرانی نہیں لکھی
قتل سب انسان ہو جائیں گے کیا
شہر بھی ویران ہو جائیں گے کیا
گھر میں چھپ کر بیٹھ جائیں گے ابھی
راستے سنسان ہو جائیں گے کیا
اے صدی اکیسویں تُو ہی بتا
ہم ترے قربان ہو جائیں گے کیا