Showing posts with label عنبرین حسیب عنبر. Show all posts
Showing posts with label عنبرین حسیب عنبر. Show all posts

Thursday, 4 May 2023

ہے جہاں محو خود نمائی میں

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


ہے جہاں محو خود نمائی میں

خوش ہوں میں آپؐ کی گدائی میں

اسمِ احمدﷺ ورق پہ لکھتے ہی

آ گیا نور روشنائی میں

بھیجتی ہوں درود آقاﷺ پر

میں فرشتوں کی ہمنوائی میں

Sunday, 16 April 2023

سبز رتوں میں پل بھر جو مہمان رہا

 سبز رتوں میں پل بھر جو مہمان رہا

ہر موسم میں اس کا ہی کیوں دھیان رہا

آنے والی نیند بھی رستہ بھول گئی

یاد کا جنگل حد درجہ گنجان رہا

شب کے رخ سے ایک ذرا آنچل سر کا

اور اجالا دن بھر کی پہچان رہا

Monday, 25 April 2022

وہ مسیحا نہ بنا ہم نے بھی خواہش نہیں کی

وہ مسیحا نہ بنا، ہم نے بھی خواہش نہیں کی

اپنی شرطوں پہ جیئے ،اس سے گزارش نہیں کی

جانے کیوں بجھنے لگے اول شب سارے چراغ

آندھیوں نے بھی اگرچہ کوئی سازش نہیں کی

اب کہ ہم نے بھی دیا ترک تعلق کا جواب

ہونٹ خاموش رہے، آنکھ نے بارش نہیں کی

Wednesday, 2 February 2022

اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے

 اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے

ہر جیت ہے لا حاصل، ہر مات ادھوری ہے

کچھ دیر کی رِم جِھم کو معلوم نہیں شاید

جل تھل نہ ہو آنگن تو برسات ادھوری ہے

کیا خوب تماشہ ہے یہ کارگہِ ہستی

ہر جسم سلامت ہے، ہر ذات ادھوری ہے

Monday, 14 June 2021

بہتے ہوئے اشکوں کی روانی نہیں لکھی

 بہتے ہوئے اشکوں کی روانی نہیں لکھی

میں نے غم ہجراں کی کہانی نہیں لکھی

جس دن سے تِرے ہاتھ سے چھُوٹا ہے مِرا ہاتھ

اس دن سے کوئی شام سہانی نہیں لکھی

کیا جانئے کیا سوچ کے افسردہ ہوا دل

میں نے تو کوئی بات پرانی نہیں لکھی

Saturday, 22 May 2021

قتل سب انسان ہو جائیں گے کیا

 قتل سب انسان ہو جائیں گے کیا

شہر بھی ویران ہو جائیں گے کیا

گھر میں چھپ کر بیٹھ جائیں گے ابھی

راستے سنسان ہو جائیں گے کیا

اے صدی اکیسویں تُو ہی بتا

ہم ترے قربان ہو جائیں گے کیا

Tuesday, 7 July 2020

دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو، تم بھی ناں

دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو، تم بھی ناں
مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو، تم بھی ناں
دے جاتے ہو مجھ کو کتنے رنگ نئے
جیسے "پہلی" بار ملے ہو، تم بھی ناں
ہر منظر میں اب ہم "دونوں" ہوتے ہیں
مجھ میں ایسے آن بسے ہو، تم بھی ناں

میں ہوں تم ہو اک دنیا ہے توبہ ہے

میں ہوں تم ہو اک دنیا ہے، توبہ ہے
سارا "عالم" دیکھ رہا ہے، توبہ ہے
سب سے بچ کر تم نے ایک نظر دیکھا
اور یہاں جو دل "دھڑکا" ہے، توبہ ہے
چھیڑ رہی تھی زلف کو چنچل شوخ ہوا
میں یہ سمجھی تم نے چھوا ہے، توبہ ہے

زندگی بھر ایک ہی کار ہنر کرتے رہے

زندگی" بھر ایک ہی "کارِ ہنر" کرتے رہے"
اک گھروندہ ریت کا تھا، جس کو گھر کرتے رہے
ہم کو بھی "معلوم" تھا "انجام" کیا ہو گا، مگر
شہرِ "کوفہ" کی طرف ہم بھی "سفر" کرتے رہے
اڑ گئے سارے "پرندے" موسموں کی "چاہ" میں
انتظار" ان کا مگر "بوڑھے "شجر" کرتے رہے"

Friday, 3 July 2020

کیا قیامت ہے کوئی چیز ٹھکانے سے نہیں

کیا قیامت ہے کوئی چیز ٹھکانے سے نہیں
یہ شکایت مجھے خود سے ہے زمانے سے نہیں
کاش، یہ بات کوئی "خضر" کو سمجھا سکتا
منزلیں شوق سے ہیں، راہ دکھانے سے نہیں
خلعتِ عظمت" و "دستارِ رِیا" پہنے ہوئے"
آپ جو بھی ہوں مگر میرے گھرانے سے نہیں

اب اسیری کی یہ تدبیر ہوئی جاتی ہے

اب اسیری کی یہ "تدبیر" ہوئی جاتی ہے
ایک خوشبو مِری "زنجیر" ہوئی جاتی ہے
اک حسیں خواب کہ آنکھوں سے نکلتا ہی نہیں
ایک وحشت ہے کہ "تعبیر" ہوئی جاتی ہے
اس کی پوشاک نگاہوں کا عجب ہے یہ فسوں
خوش بیانی مری "تصویر" ہوئی جاتی ہے

وہ مسیحا نہ بنا ہم نے بھی خواہش نہیں کی

وہ مسیحا نہ بنا، ہم نے بھی "خواہش" نہیں کی
اپنی شرطوں پہ جیے ،اس سے گزارش نہیں کی
جانے کیوں بجھنے لگے اول شب سارے چراغ
آندھیوں نے بھی اگرچہ کوئی سازش نہیں کی
اب کہ ہم نے بھی دیا ترکِ تعلق کا جواب
ہونٹ خاموش رہے، آنکھ نے بارش نہیں کی

Monday, 29 June 2020

مکان بیچ دئیے ہیں مکین بیچ دئیے

مکان بیچ دیئے ہیں، مکین بیچ دیئے
ضرورتوں نے تو دنیا و دین بیچ دیئے
ہمارے دور کا یہ سانحہ رقم ہو گا
گماں خریدنے نکلے، یقین بیچ دیئے
یہ گھر بچانے کی تدبیر ہو تو کیسے ہو؟
جناب! آپ نے سارے ذہین بیچ دئیے

عید آئی مگر خوشی کے بغیر

عید آئی، مگر خوشی کے بغیر
پھول جیسے ہو دلکشی کے بغیر
مائیں روتی ہیں، عید پر بچے
گھر کو آئے ہیں زندگی کے بغیر
زندگی ہو گئی ہے کچھ ایسے
آنکھ جیسے ہو روشنی کے بغیر

ملا بھی زیست میں کیا رنج رہگزر سے کم

ملا بھی زیست میں کیا، رنجِ رہگزر سے کم
سو اپنا شوقِ سفر بھی نہیں غبار سے کم
تِرے فراق میں دل کا عجیب عالم ہے
نہ کچھ خمار سے بڑھ کر، نہ کچھ خمار سے کم
ہنسی خوشی کی رفاقت کسی سے کیا چاہیں
یہاں تو ملتا نہیں کوئی غمگسار سے کم

Friday, 19 June 2020

میں اسے دیکھ رہی ہوں بڑی حیرانی سے

میں اسے دیکھ رہی ہوں بڑی حیرانی سے
جو مجھے بھول گیا اس قدر "آسانی" سے
خود سے گھبرا کے یہی کہتی ہوں اوروں کی طرح
خوف آتا ہے مجھے شہر کی "ویرانی" سے
اب کسی اور سلیقے سے ستائے دنیا
جی بدلنے لگا "اسبابِ پریشانی" سے

جز ترے کچھ بھی نہیں اور مقدر میرا

جُز تِرے کچھ بھی نہیں اور مقدر میرا
تُو ہی ساحل ہے مِرا، تُو ہی مقدر میرا
تُو نہیں ہے تو ادھوری سی ہے دنیا ساری
کوئی منظر مجھے لگتا نہیں منظر میرا
منقسم ہیں سبھی لمحوں میں مِرے خال و خد
یوں مکمل نہیں ہوتا کبھی "پیکر" میرا

جب سے زندانی ہوا دل گردش تقدیر کا

جب سے زندانی ہوا دل گردشِ تقدیر کا
روز بڑھ جاتا ہے اک حلقہ مری زنجیر کا
میرے حصے میں کہاں تھیں عجلتوں کی منزلیں
میرے قدموں کو سدا رستہ ملا "تاخیر" کا
کس لیے بربادیوں کا دل کو ہے اتنا ملال
اور کیا انداز ہو "خمیازۂ تعمیر" کا