Saturday, 22 May 2021

قتل سب انسان ہو جائیں گے کیا

 قتل سب انسان ہو جائیں گے کیا

شہر بھی ویران ہو جائیں گے کیا

گھر میں چھپ کر بیٹھ جائیں گے ابھی

راستے سنسان ہو جائیں گے کیا

اے صدی اکیسویں تُو ہی بتا

ہم ترے قربان ہو جائیں گے کیا

زندگی کی مشکلوں کے خوف سے

مرحلے آسان ہو جائیں گے کیا

ہم اسی اک شہر میں رہتے ہوئے

اس قدر انجان ہو جائیں گے کیا


عنبرین حسیب عنبر

No comments:

Post a Comment