Saturday, 22 May 2021

شاید تمہیں ہو راس یہ خوشبو ہوا یہ رات

 شاید تمہیں ہو راس یہ خوشبو ہوا یہ رات

لے کر چلا بھی جا اب اپنی اٹھا یہ رات

شوقِ جنوں کی شاخ سے جگنو سمیٹ لے

چل چاند کی زمین پہ چل کے بنا یہ رات

ہر اک جگہ فصیل غمِ جاں کو کاٹ دے

دیپک ہوا کے ہاتھ پہ رکھ کے جلا یہ رات

دامن میں اختیار کے شیشے کو توڑ دے

آنکھوں کی پور پور میں لا کر دکھا یہ رات

شبنم اٹھا لے لا کسی بادل کی کوکھ سے

بارش کی بوند بوند میں لا کر سجا یہ رات

پھر وادئ گداز میں رہنے کا عزم کر

پھر میکدے کی آنکھ سے ایسے چُرا یہ رات


ثمینہ گل

No comments:

Post a Comment