شاید تمہیں ہو راس یہ خوشبو ہوا یہ رات
لے کر چلا بھی جا اب اپنی اٹھا یہ رات
شوقِ جنوں کی شاخ سے جگنو سمیٹ لے
چل چاند کی زمین پہ چل کے بنا یہ رات
ہر اک جگہ فصیل غمِ جاں کو کاٹ دے
دیپک ہوا کے ہاتھ پہ رکھ کے جلا یہ رات
دامن میں اختیار کے شیشے کو توڑ دے
آنکھوں کی پور پور میں لا کر دکھا یہ رات
شبنم اٹھا لے لا کسی بادل کی کوکھ سے
بارش کی بوند بوند میں لا کر سجا یہ رات
پھر وادئ گداز میں رہنے کا عزم کر
پھر میکدے کی آنکھ سے ایسے چُرا یہ رات
ثمینہ گل
No comments:
Post a Comment