Saturday, 22 May 2021

گر قبیلے میں نہ اندر سے بغاوت ہوتی

 گر قبیلے میں نہ اندر سے بغاوت ہوتی

سر کے کٹنے پہ بھی دستار سلامت ہوتی

وہ حقیقت ہے، حقیقت بھی سرِ عام عیاں

خواب ہوتا تو بھلانے میں سہولت ہوتی

میں کہ سچ بولتے رہنے کا پرانا مجرم

کیسے ممکن تھا اسے مجھ سے محبت ہوتی

ہم بصد شوق کھڑے رہتے سر راہ گزر

ان کے آنے کی اگر کوئی بشارت ہوتی

عرش کے لوگ بھی حسرت سے زمیں کو تکتے

اس پری وش کی جو دنیا پہ حکومت ہوتی

بن بلائے ہی اتر آتا یہ سورج بھی وہاں

گر ستاروں کو تری دید کی دعوت ہوتی

تم نے جو ظلم کیا، ہنس کے سہا، ہونٹ سیے

ہم خدا سے بھی جو کہتے تری غیبت ہوتی

جھوٹ کے دور میں سچ بول کے پچھتائے ہیں

ہم سے اے کاش نہ سرزد یہ حماقت ہوتی

اس کی دشنام طرازی کا یقیں تھا مجھ کو

اس کے چپ رہنے سے ازحد مجھے حیرت ہوتی

مرے آنگن میں لگا ہوتا کوئی پیڑ اگر

اس پہ ہر روز پرندوں کی تلاوت ہوتی

سر بریدہ لیے پھرتے جو محبت کا وجود

یہ تو جذبوں کی کھلے عام تجارت ہوتی

جو بھی بدلے وہ سرِ عام جلایا جائے

مذہبِ عشق میں اے کاش اجازت ہوتی

ہم پہ واجب تھا درِ یار پہ رسوا ہونا

چاک ہوتا نہ گریباں تو ملامت ہوتی

مرا کردار اضافی تھا، اضافی ہی رہا

لوٹ آتا جو مری اس کو ضرورت ہوتی

ان کو معلوم جو پڑتا مرا شجرہ دانش

خلقتِ شہر مرے ہاتھ پہ بیعت ہوتی


دانش عزیز

No comments:

Post a Comment