Showing posts with label ریاض لطیف. Show all posts
Showing posts with label ریاض لطیف. Show all posts

Thursday, 28 May 2026

غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے

 غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے

دو ہونٹوں کے بیچ یہ دریا کیوں آتا ہے

جیسے میں اپنی آنکھوں میں ڈوب رہا ہوں

غیروں کو اکثر یہ سپنا کیوں آتا ہے

میری راتوں کے سارے اسرار سمیٹے

مجھ سے پہلے میرا سایا کیوں آتا ہے

Thursday, 16 October 2025

حصار کے سبھی نظام گرد گرد ہو گئے

 حصار کے سبھی نظام گرد گرد ہو گئے

ہم اپنے اپنے جسم میں خلا نورد ہو گئے

روانیاں صفر ہوئیں مسافتیں کھنڈر ہوئیں

نجات کے تمام شاہکار سرد ہو گئے

ہوائے جاں کا کیا میاں اٹھا گئی اڑا گئی

جمے نہ تھے بدن میں ہم کہ پھر سے گرد ہو گئے

Wednesday, 23 October 2024

نہ پوچھ مجھ سے کہ جنگ لشکر سسکتے پتھر

 ہجرت


نہ پوچھ مجھ سے

کہ جنگ، لشکر

سسکتے پتھر

فضا کے آنسو

ہوا کے تیور

یہ رائیگانی

Wednesday, 21 April 2021

خود کو خود ہی میں ڈبونا ہے

ویران خواہش


مرے اندر

گھنا جنگل

گھنے انجان جنگل میں

لچک شاخوں کی وحشت میں

شجر کے پتے پتے پر

منقش ان گنت صدیاں