غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے
دو ہونٹوں کے بیچ یہ دریا کیوں آتا ہے
جیسے میں اپنی آنکھوں میں ڈوب رہا ہوں
غیروں کو اکثر یہ سپنا کیوں آتا ہے
میری راتوں کے سارے اسرار سمیٹے
مجھ سے پہلے میرا سایا کیوں آتا ہے
غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے
دو ہونٹوں کے بیچ یہ دریا کیوں آتا ہے
جیسے میں اپنی آنکھوں میں ڈوب رہا ہوں
غیروں کو اکثر یہ سپنا کیوں آتا ہے
میری راتوں کے سارے اسرار سمیٹے
مجھ سے پہلے میرا سایا کیوں آتا ہے
حصار کے سبھی نظام گرد گرد ہو گئے
ہم اپنے اپنے جسم میں خلا نورد ہو گئے
روانیاں صفر ہوئیں مسافتیں کھنڈر ہوئیں
نجات کے تمام شاہکار سرد ہو گئے
ہوائے جاں کا کیا میاں اٹھا گئی اڑا گئی
جمے نہ تھے بدن میں ہم کہ پھر سے گرد ہو گئے
ہجرت
نہ پوچھ مجھ سے
کہ جنگ، لشکر
سسکتے پتھر
فضا کے آنسو
ہوا کے تیور
یہ رائیگانی
ویران خواہش
مرے اندر
گھنا جنگل
گھنے انجان جنگل میں
لچک شاخوں کی وحشت میں
شجر کے پتے پتے پر
منقش ان گنت صدیاں