Wednesday, 21 April 2021

خود کو خود ہی میں ڈبونا ہے

ویران خواہش


مرے اندر

گھنا جنگل

گھنے انجان جنگل میں

لچک شاخوں کی وحشت میں

شجر کے پتے پتے پر

منقش ان گنت صدیاں

زمانوں کے بدن عریاں

ازل کی زد، ابد کی حد

کھنڈر، مینار اور گنبد

رواں لا سمت تہذیبیں

نئے امکان کی سانسیں

کبھی اپنی گرفتوں میں

گرفتوں سے کبھی باہر

لہو، آفاق، اک دریا

بدن لمحات کا صحرا

جہاں دنیا بھٹکتی تھی

وہ سب خاموش اور تنہا

اسی صحرا کے سناٹے کو نغموں سے بھگونا ہے

کہیں دور جا کر

خود کو خود ہی میں ڈبونا ہے

کسی دن اپنے جنگل سے لپٹ کے کھل کے رونا ہے


ریاض لطیف

No comments:

Post a Comment