Wednesday, 21 April 2021

سرد آہوں کی سسکیوں میں

 دسمبر کے نام


سرد آہوں کی سسکیوں میں

یہ ریت آنکھوں سے چھٹ رہی ہے

یہ سبز گُل جو خزاں کے حصے

میں

بیج اپنے اُگا رہے ہیں

دل شکستہ سی رُوح لے کر

نظر کو آنکھوں سے دُور رکھ کر

دیوار  و در سے لپٹ کے وہ کیوں

یوں ماتمِ ہجراں کر رہے ہیں

کہ جیسے آنکھوں کے 

خواب سارے ہی

رفتہ رفتہ پگھل رہے ہیں


وشال سحر 

No comments:

Post a Comment