دسمبر کے نام
سرد آہوں کی سسکیوں میں
یہ ریت آنکھوں سے چھٹ رہی ہے
یہ سبز گُل جو خزاں کے حصے
میں
بیج اپنے اُگا رہے ہیں
دل شکستہ سی رُوح لے کر
نظر کو آنکھوں سے دُور رکھ کر
دیوار و در سے لپٹ کے وہ کیوں
یوں ماتمِ ہجراں کر رہے ہیں
کہ جیسے آنکھوں کے
خواب سارے ہی
رفتہ رفتہ پگھل رہے ہیں
وشال سحر
No comments:
Post a Comment