سب مجھے تکتے ہیں میرا دردِ پنہاں دیکھ کر
یعنی آنکھوں میں مِری اشکوں کا طوفاں دیکھ کر
ہوتے ہوتے ہو گئے ہم اس قدر ایذا طلب
تلوے کھُجلاتے ہیں اب خارِ مغیلاں دیکھ کر
یہ حیاتِ مختصر اور اس پہ اتنا ہے غرور
اس لیے روتی ہے شبنم گُل کو خنداں دیکھ کر
المدد اے لذتِ غم، المدد اے صبر و ضبط
کانپ اُٹھتا ہوں میں رنگِ شامِ ہجراں دیکھ کر
دل کی دنیا مختصر کس کس کو دے کوئی جگہ
تنگ ہوں میں اب ہجومِ شوق و ارماں دیکھ کر
کس کو آتا تھا اے مسلم! میری توبہ کا یقیں
اب تو کچھ مجھ کو بھی شک ہے ابرِ باراں دیکھ کر
مسلم مالیگانوی
No comments:
Post a Comment