وصالِ یار کا موسم اِدھر آیا، اُدھر نکلا
جسے ہم داستاں سمجھے وہ قصہ مختصر نکلا
گنے جو وصل کے لمحے تو مشکل سے وہ اتنے تھے
کہ تارے جاگ کر سوئے، کہ سورج ڈوب کر نکلا
ہمیشہ ایک ہی غلطی، ہر اِک سے دوستی جلدی
وہ جس کے زہر تھا دل میں، تِرا نورِ نظر نکلا
وصالِ یار کا موسم اِدھر آیا، اُدھر نکلا
جسے ہم داستاں سمجھے وہ قصہ مختصر نکلا
گنے جو وصل کے لمحے تو مشکل سے وہ اتنے تھے
کہ تارے جاگ کر سوئے، کہ سورج ڈوب کر نکلا
ہمیشہ ایک ہی غلطی، ہر اِک سے دوستی جلدی
وہ جس کے زہر تھا دل میں، تِرا نورِ نظر نکلا
خوب روتے ہوئے مچل جانا
ہم نے سیکھا ہے یوں بہل جانا
مشکلوں سے بہت ملی منزل
ساتھیوں نے اسے سہل جانا
بے وفا! تجھ کو یہ اجازت ہے
اب کے موسم میں تُو بدل جانا
عجیب کچھ بھی نہ تھا، پھر بھی کچھ عجیب ہی تھا
وہ مجھ سے دور تھا، لیکن مِرے قریب ہی تھا
خبر انوکھی نہیں یہ کہ میں مَرا، لیکن
انوکھا یہ ہے کہ قاتل مِرا طبیب ہی تھا
مجھے قبول کہ غلطی نہ تھی امیر کی کچھ
کچل دیا جسے گاڑی نے وہ غریب ہی تھا
عجیب رنگ یہ والا حضور، دیکھتا ہوں
جھلک رہا ہے جو رخ سے غرور، دیکھتا ہوں
دبائے دانت میں انگلی، کھڑا ہوں میں حیراں
سما گیا ہے جو تجھ میں فتور، دیکھتا ہوں
تمام شہر تجھے آنکھ بھر کے دیکھتا ہے
تمام شہر کو میں گھور گھور دیکھتا ہوں
مٹے جب نقش، باقی رہ گئی ہلکی سی پرچھائی
چلو آئی تمہیں آخر ہماری یاد تو آئی
تمہیں یہ زعم تھا دنیا سے کٹ کر رہ سکو گے تم
محل سپنوں کا جب ٹوٹا، نئی دنیا نظر آئی
اگر ظاہر نہ ہوں باتیں دلوں کی، ہے یہی بہتر
کسی کے شوقِ شہرت سے کسی کو خوفِ رسوائی