Showing posts with label عمار ضیا. Show all posts
Showing posts with label عمار ضیا. Show all posts

Thursday, 24 February 2022

وصال یار کا موسم ادھر آیا ادھر نکلا

 وصالِ یار کا موسم اِدھر آیا، اُدھر نکلا

جسے ہم داستاں سمجھے وہ قصہ مختصر نکلا

گنے جو وصل کے لمحے تو مشکل سے وہ اتنے تھے

کہ تارے جاگ کر سوئے، کہ سورج ڈوب کر نکلا

ہمیشہ ایک ہی غلطی، ہر اِک سے دوستی جلدی

وہ جس کے زہر تھا دل میں، تِرا نورِ نظر نکلا

Sunday, 23 January 2022

خوب روتے ہوئے مچل جانا

 خوب روتے ہوئے مچل جانا

ہم نے سیکھا ہے یوں بہل جانا

مشکلوں سے بہت ملی منزل

ساتھیوں نے اسے سہل جانا

بے وفا! تجھ کو یہ اجازت ہے

اب کے موسم میں تُو بدل جانا

Monday, 27 December 2021

عجیب کچھ بھی نہ تھا پھر بھی کچھ عجیب ہی تھا

 عجیب کچھ بھی نہ تھا، پھر بھی کچھ عجیب ہی تھا

وہ مجھ سے دور تھا، لیکن مِرے قریب ہی تھا

خبر انوکھی نہیں یہ کہ میں مَرا، لیکن

انوکھا یہ ہے کہ قاتل مِرا طبیب ہی تھا

مجھے قبول کہ غلطی نہ تھی امیر کی کچھ

کچل دیا جسے گاڑی نے وہ غریب ہی تھا

Sunday, 26 December 2021

عجیب رنگ یہ والا حضور دیکھتا ہوں

 عجیب رنگ یہ والا حضور، دیکھتا ہوں

جھلک رہا ہے جو رخ سے غرور، دیکھتا ہوں

دبائے دانت میں انگلی، کھڑا ہوں میں حیراں

سما گیا ہے جو تجھ میں فتور، دیکھتا ہوں

تمام شہر تجھے آنکھ بھر کے دیکھتا ہے

تمام شہر کو میں گھور گھور دیکھتا ہوں

Friday, 21 May 2021

مٹے جب نقش باقی رہ گئی ہلکی سی پرچھائی

 مٹے جب نقش، باقی رہ گئی ہلکی سی پرچھائی

چلو آئی تمہیں آخر ہماری یاد تو آئی

تمہیں یہ زعم تھا دنیا سے کٹ کر رہ سکو گے تم

محل سپنوں کا جب ٹوٹا، نئی دنیا نظر آئی

اگر ظاہر نہ ہوں باتیں دلوں کی، ہے یہی بہتر

کسی کے شوقِ شہرت سے کسی کو خوفِ رسوائی