Friday, 21 May 2021

مٹے جب نقش باقی رہ گئی ہلکی سی پرچھائی

 مٹے جب نقش، باقی رہ گئی ہلکی سی پرچھائی

چلو آئی تمہیں آخر ہماری یاد تو آئی

تمہیں یہ زعم تھا دنیا سے کٹ کر رہ سکو گے تم

محل سپنوں کا جب ٹوٹا، نئی دنیا نظر آئی

اگر ظاہر نہ ہوں باتیں دلوں کی، ہے یہی بہتر

کسی کے شوقِ شہرت سے کسی کو خوفِ رسوائی

مجھے ایسا لگا کہ دل کی دھڑکن رکنے والی ہے

پری وش نے گھڑی بھر چہرے سے چادر جو سرکائی

جسے ڈھونڈا ملا وہ سب، مگر عمار اک حسرت

محبت ہے کہ دنیا میں کہیں ہم نے نہیں پائی


عمار ضیا

No comments:

Post a Comment