چہروں کی بھِیڑ میں اِنسان کہاں ہیں
اے زمیں! تیرے نِگہبان کہاں ہیں؟
لو دِیے کی بھی ہے یہ پُوچھتی اب تو
بُجھا دیں مجھ کو جو طُوفان کہاں ہیں
ہے مِرے شہر میں ہر شے ہی میسّر
پُورے ہوتے مگر ارمان کہاں ہیں
چہروں کی بھِیڑ میں اِنسان کہاں ہیں
اے زمیں! تیرے نِگہبان کہاں ہیں؟
لو دِیے کی بھی ہے یہ پُوچھتی اب تو
بُجھا دیں مجھ کو جو طُوفان کہاں ہیں
ہے مِرے شہر میں ہر شے ہی میسّر
پُورے ہوتے مگر ارمان کہاں ہیں
حرام کو بھی اِک دم حلال کرتا ہے
کبھی جو دل نئی کوئی مجال کرتا ہے
ہزار تشنہ سی حسرتوں کے بوجھ تلے
یہ جو دھڑکتا ہے، 💓دل کمال کرتا ہے
یہ دل بھی تو رہتا ہے عجب سے مخمصے میں
جواب گھڑتا ہے، خُود ہی سوال کرتا ہے
زندگی کوئی بھول لگتی ہے
ترے پیروں کی دُھول لگتی ہے
میں پرستش کی حد سے لوٹا ہوں
اب محبت فضول لگتی ہے
میری ہر التجا ہے رائیگاں
تیری اُف بھی قبول لگتی ہے
جو یہ ہجر ہی کہیں تھمتا، وصالِ یار ہوتا
یہاں خوش نصیبوں میں میرا بھی تو شمار ہوتا
یہی میکدے حسن کے ہُوا کرتے جو جنت جاں
میں بھی جو نشاط ہوتا، تُو بھی اک خمار ہوتا
لگا لیتے جو کہیں تو اسی خود غرض کو ہم بھی
یہ جو ہوتا اپنا، جو دل پہ کچھ اختیار ہوتا