Showing posts with label اظہر ناظر. Show all posts
Showing posts with label اظہر ناظر. Show all posts

Tuesday, 7 July 2026

چہروں کی بھیڑ میں انسان کہاں ہیں

 چہروں کی بھِیڑ میں اِنسان کہاں ہیں

اے زمیں! تیرے نِگہبان کہاں ہیں؟

لو دِیے کی بھی ہے یہ پُوچھتی اب تو

بُجھا دیں مجھ کو جو طُوفان کہاں ہیں

ہے مِرے شہر میں ہر شے ہی میسّر

پُورے ہوتے مگر ارمان کہاں ہیں

Sunday, 23 March 2025

حرام کو بھی اک دم حلال کرتا ہے

 حرام کو بھی اِک دم حلال کرتا ہے

کبھی جو دل نئی کوئی مجال کرتا ہے

ہزار تشنہ سی حسرتوں کے بوجھ تلے

یہ جو دھڑکتا ہے، 💓دل کمال کرتا ہے

یہ دل بھی تو رہتا ہے عجب سے مخمصے میں

جواب گھڑتا ہے، خُود ہی سوال کرتا ہے

Friday, 9 July 2021

زندگی کوئی بھول لگتی ہے

 زندگی کوئی بھول لگتی ہے

ترے پیروں کی دُھول لگتی ہے

میں پرستش کی حد سے لوٹا ہوں

اب محبت فضول لگتی ہے

میری ہر التجا ہے رائیگاں

تیری اُف بھی قبول لگتی ہے

Saturday, 21 November 2020

جو یہ ہجر ہی کہیں تھمتا وصال یار ہوتا

 جو یہ ہجر ہی کہیں تھمتا، وصالِ یار ہوتا

یہاں خوش نصیبوں میں میرا بھی تو شمار ہوتا

یہی میکدے حسن کے ہُوا کرتے جو جنت جاں

میں بھی جو نشاط ہوتا، تُو بھی اک خمار ہوتا

لگا لیتے جو کہیں تو اسی خود غرض کو ہم بھی

یہ جو ہوتا اپنا، جو دل پہ کچھ اختیار ہوتا