زندگی کوئی بھول لگتی ہے
ترے پیروں کی دُھول لگتی ہے
میں پرستش کی حد سے لوٹا ہوں
اب محبت فضول لگتی ہے
میری ہر التجا ہے رائیگاں
تیری اُف بھی قبول لگتی ہے
یہ جو چھالے ہیں میرے ہاتھوں میں
مجھے محنت وصول لگتی ہے
اتنی وحشت کہاں تھی پہلے سے
عشق کا یہ نزول لگتی ہے
موت کو آئے موت پر ظالم
زندگی کا اصول لگتی ہے
اظہر ناظر
No comments:
Post a Comment