برسوں ہوئے اس سے نہ کوئی بات ہوئی رات
تو نے بھی نہ کی اپنی کوئی جادوگری رات
گم ہو گئی امیدِ ملاقات سحر میں
یہ تُو نے مِرے ساتھ عجب چال چلی رات
وہ لے گیا ساتھ اپنے اجالے مِرے دل کے
کاٹے نہ کٹی ہم سے جو تھی درد بھری رات
برسوں ہوئے اس سے نہ کوئی بات ہوئی رات
تو نے بھی نہ کی اپنی کوئی جادوگری رات
گم ہو گئی امیدِ ملاقات سحر میں
یہ تُو نے مِرے ساتھ عجب چال چلی رات
وہ لے گیا ساتھ اپنے اجالے مِرے دل کے
کاٹے نہ کٹی ہم سے جو تھی درد بھری رات
جذبوں سے فروزاں ہیں دہکتے ہوئے رُخسار
کیا حشر بداماں ہیں دہکتے ہوئے رخسار
روشن ہے اجل اور ابد ان کی ضیا سے
یہ رحمتِ یزداں ہیں دہکتے ہوئے رخسار
بڑھنے لگی کچھ اور وہاں آتشِ جذبات
دل میں میرے مہماں ہیں دہکتے ہوئے رخسار
دل دھڑکنے کا انداز بدلا نہیں
اک تعلق ابھی اس سے ٹوٹا نہیں
کتنے رنگین پیکر ملے راہ میں
جس کو ڈھونڈا اسے میں نے پایا نہیں
مجھ کو معلوم تھیں اس کی مجبوریاں
جانے والے کو پھر میں نے روکا نہیں
جنوں کی راہ میں پہلے درِ جانانہ آتا ہے
فراغت ہے پھر اس کے بعد ہی ویرانہ آتا ہے
یہ دل کی بات ہے اور بات یہ دل ہی سمجھتا ہے
ہمارے پاس اکثر چل کے خود مے خانہ آتا ہے
کرو ہر گام پر سجدے، محبت کا تقاضہ ہے
بہت نزدیک ہے، اور یار کا کاشانہ آتا ہے
کہاں تیور ہیں ان میں اب وہ کل کے
ہوا چلنے لگی ہے رخ بدل کے
جدائی کی گھڑی ہے دشمن دل
بلا ہے یہ نہیں ٹلتی ہے ٹل کے
ادا ان کی مزہ دیتی ہے ہم کو
مزہ آتا ہے ان کو دل مسل کے