Showing posts with label سہیل کاکوروی. Show all posts
Showing posts with label سہیل کاکوروی. Show all posts

Friday, 11 March 2022

برسوں ہوئے اس سے نہ کوئی بات ہوئی رات

 برسوں ہوئے اس سے نہ کوئی بات ہوئی رات

تو نے بھی نہ کی اپنی کوئی جادوگری رات

گم ہو گئی امیدِ ملاقات سحر میں

یہ تُو نے مِرے ساتھ عجب چال چلی رات

وہ لے گیا ساتھ اپنے اجالے مِرے دل کے

کاٹے نہ کٹی ہم سے جو تھی درد بھری رات

Wednesday, 1 December 2021

جذبوں سے فروزاں ہیں دہکتے ہوئے رخسار

 جذبوں سے فروزاں ہیں دہکتے ہوئے رُخسار

کیا حشر بداماں ہیں دہکتے ہوئے رخسار

روشن ہے اجل اور ابد ان کی ضیا سے

یہ رحمتِ یزداں ہیں دہکتے ہوئے رخسار

بڑھنے لگی کچھ اور وہاں آتشِ جذبات

دل میں میرے مہماں ہیں دہکتے ہوئے رخسار

Saturday, 27 November 2021

دل دھڑکنے کا انداز بدلا نہیں

 دل دھڑکنے کا انداز بدلا نہیں

اک تعلق ابھی اس سے ٹوٹا نہیں

کتنے رنگین پیکر ملے راہ میں

جس کو ڈھونڈا اسے میں نے پایا نہیں

مجھ کو معلوم تھیں اس کی مجبوریاں

جانے والے کو پھر میں نے روکا نہیں

Friday, 26 November 2021

جنوں کی راہ میں پہلے در جانانہ آتا ہے

 جنوں کی راہ میں پہلے درِ جانانہ آتا ہے

فراغت ہے پھر اس کے بعد ہی ویرانہ آتا ہے

یہ دل کی بات ہے اور بات یہ دل ہی سمجھتا ہے

ہمارے پاس اکثر چل کے خود مے خانہ آتا ہے

کرو ہر گام پر سجدے، محبت کا تقاضہ ہے

بہت نزدیک ہے، اور یار کا کاشانہ آتا ہے

Saturday, 19 June 2021

کہاں تیور ہیں ان میں اب وہ کل کے

کہاں تیور ہیں ان میں اب وہ کل کے

ہوا چلنے لگی ہے رخ بدل کے

جدائی کی گھڑی ہے دشمن دل

بلا ہے یہ نہیں ٹلتی ہے ٹل کے

ادا ان کی مزہ دیتی ہے ہم کو

مزہ آتا ہے ان کو دل مسل کے