شک اور وہم کی عادت میں مارا جاؤں گا
میں اپنی فہم و فراست میں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا اِس عجز و انکساری میں
لحاظ، شرم، مروّت میں مارا جاؤں گا
تِرا سوالِ محبت تو ٹھیک ہے، لیکن
میں اب جوابِ محبت میں مارا جاؤں گا
شک اور وہم کی عادت میں مارا جاؤں گا
میں اپنی فہم و فراست میں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا اِس عجز و انکساری میں
لحاظ، شرم، مروّت میں مارا جاؤں گا
تِرا سوالِ محبت تو ٹھیک ہے، لیکن
میں اب جوابِ محبت میں مارا جاؤں گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہم کیوں نہ نبیﷺ کا ذکر کریں، یہ ذکر ہی برکت والا ہے
یہ ذات بھی سب سے عالی ہے، یہ نام بھی سب سے اعلیٰ ہے
ہے جگمگ جگمگ سب عالم، کہتی ہے خدائی یہ ہر دم
سرکارﷺ کی آمد آمد ہے، یُوں چاروں سمت اُجالا ہے
اللہ سے محبت تو دیکھو، محبوبﷺ کی نسبت تو دیکھو
سرکارﷺ کی کملی کالی ہے، کعبے کا غلاف بھی کالا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رسولِ پاکﷺ کی نعتیں سُنانے آئے ہیں
ہم اُن کے ذکر کی محفل سجانے آئے ہیں
اُنہی کے آنے سے روشن یہ کائنات ہوئی
وہ ظلمتوں کے بُتوں کو مٹانے آئے ہیں
مِرے حضورﷺ کے سائے کو مختصر نہ کرو
کہ وہ تو سارے زمانوں پہ چھانے آئے ہیں
ماں بھلا کیسے تِرا پیار بھُلا پاؤں گا
کیسے ممتا کا وہ اظہار بھلا پاؤں گا
بدلہ چاہت کا تِری کون چُکا سکتا ہے
کون بدبخت تجھے دل سے بھلا سکتا ہے
رات بھر جاگ کے سینے سے لگائے رکھنا
خود نہیں سونا، مگر بچہ سُلائے رکھنا