Showing posts with label وفا ملک پوری. Show all posts
Showing posts with label وفا ملک پوری. Show all posts

Wednesday, 9 August 2023

تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر

 تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر

وفا کو آ ہی گئی نیند رات ڈھلنے پر

جو سب کا دوست تھا ہر انجمن کی رونق تھا

کل اس کی لاش ملی اس کے گھر کے ملبے پر

ہر ایک دوست کے چہرے کو غور سے دیکھا

فقط خلوص کا غازہ تھا سب کے چہرے پر

Sunday, 18 June 2023

نئی سحر ہے یہ لوگو نیا سویرا ہے

 نئی سحر ہے یہ لوگو! نیا سویرا ہے

طلوع ہو چکا سورج مگر اندھیرا ہے

خدا ہی جانے یہ دل کب خدا کا گھر ہو گا

ابھی تو اس میں بُتانِ ہوس کا ڈیرا ہے

ابھی نہ دے مجھے آواز اے غمِ جاناں

ابھی تو شہرِ وفا میں بڑا اندھیرا ہے

Tuesday, 13 June 2023

قسمت نے میری مجھ کو نہ پوچھو کہ کیا دیا

 قسمت نے میری مجھ کو نہ پوچھو کہ کیا دیا

کیا کم ہے یہ عطا کہ دلِ مبتلا دیا

کربِ حیات، سوزِ وفا، دردِ کائنات

قدرت نے سب مِلا کے مِرا دل بنا دیا​

دیکھی گئی نہ مجھ سے جو تاریکیئ چمن

گھبرا کہ میں نے اپنا نشیمن جلا دیا

Monday, 12 June 2023

ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

 ان کی نگہِ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

ہم جرمِ محبت کی سزا پائے ہوئے ہیں

یہ سایہ نشینانِ گزر گاہِ تمنا

کچھ عشق کے کچھ عقل کے بہکائے ہوئے ہیں

اب ان کو نئی صبح کے پیغام سنا دو

جو تیرگی وقت سے گھبرائے ہوئے ہیں

Sunday, 11 June 2023

بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا

بُتوں کا ساتھ دیا، بُت شکن کا ساتھ دیا

فریبِ عشق نے ہر حسنِ ظن کا ساتھ دیا

مِرے سکوت نے کب انجمن کا ساتھ دیا

تمہاری چشمِ سخن در سخن کا ساتھ دیا

تمہارے گیسوئے پر خم پہ مرنے والوں نے

جب آیا وقت تو دار و رسن کا ساتھ دیا