تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر
وفا کو آ ہی گئی نیند رات ڈھلنے پر
جو سب کا دوست تھا ہر انجمن کی رونق تھا
کل اس کی لاش ملی اس کے گھر کے ملبے پر
ہر ایک دوست کے چہرے کو غور سے دیکھا
فقط خلوص کا غازہ تھا سب کے چہرے پر
تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر
وفا کو آ ہی گئی نیند رات ڈھلنے پر
جو سب کا دوست تھا ہر انجمن کی رونق تھا
کل اس کی لاش ملی اس کے گھر کے ملبے پر
ہر ایک دوست کے چہرے کو غور سے دیکھا
فقط خلوص کا غازہ تھا سب کے چہرے پر
نئی سحر ہے یہ لوگو! نیا سویرا ہے
طلوع ہو چکا سورج مگر اندھیرا ہے
خدا ہی جانے یہ دل کب خدا کا گھر ہو گا
ابھی تو اس میں بُتانِ ہوس کا ڈیرا ہے
ابھی نہ دے مجھے آواز اے غمِ جاناں
ابھی تو شہرِ وفا میں بڑا اندھیرا ہے
قسمت نے میری مجھ کو نہ پوچھو کہ کیا دیا
کیا کم ہے یہ عطا کہ دلِ مبتلا دیا
کربِ حیات، سوزِ وفا، دردِ کائنات
قدرت نے سب مِلا کے مِرا دل بنا دیا
دیکھی گئی نہ مجھ سے جو تاریکیئ چمن
گھبرا کہ میں نے اپنا نشیمن جلا دیا
ان کی نگہِ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیں
ہم جرمِ محبت کی سزا پائے ہوئے ہیں
یہ سایہ نشینانِ گزر گاہِ تمنا
کچھ عشق کے کچھ عقل کے بہکائے ہوئے ہیں
اب ان کو نئی صبح کے پیغام سنا دو
جو تیرگی وقت سے گھبرائے ہوئے ہیں
بُتوں کا ساتھ دیا، بُت شکن کا ساتھ دیا
فریبِ عشق نے ہر حسنِ ظن کا ساتھ دیا
مِرے سکوت نے کب انجمن کا ساتھ دیا
تمہاری چشمِ سخن در سخن کا ساتھ دیا
تمہارے گیسوئے پر خم پہ مرنے والوں نے
جب آیا وقت تو دار و رسن کا ساتھ دیا